اگر خاوند ایک بار بولے کہ "میں تمہیں چھوڑ رہا ہوں کیونکہ تم ساتھ رکھنے کے قابل نہیں " اور اس کے بعد کچھ نہ کہے تو اسلام میں اسکا کیا مطلب ہے ؟
خاوند اگر صرف یہ جملہ کہے کہ "میں تمہیں چھوڑ رہاہوں الخ" تو اس سے اسکی بیوی پر ایک طلاقِ رجعی واقع ہو جائیگی ، جسکا حکم یہ ہے کہ شوہر اگر عدت کے اندر رجوع کرنا چاہے تو کر سکتا ہے، اور اگر عدت کے اندر رجوع نہ کرے تو دونوں کا نکاح ختم ہو جاتاہے ، اسکے بعد دونوں میاں بیوی اگر باہمی رضامندی سے دوبارہ نکاح کرنا چاہیں تو نئے حق مہر کیسا تھ ، گواہوں کی موجودگی میں باقاعدہ ایجاب وقبول کیسا تھ تجدید ِنکاح کر کے میاں بیوی کی طرح رہ سکتے ہیں ، اور عورت کسی دوسری جگہ عقدِ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہو گی، تاہم پہلے شوہر کیساتھ رجوع یا تجدید ِنکاح کی صورت میں آئندہ کیلئے شوہر کو صرف دو (2) طلاقوں کا اختیار رہے گا ، اسلئے آئندہ طلاق کے معاملہ میں احتیاط کی ضرورت ہے۔
کمافی ردالمحتار: فإن سرحتك كناية لكنه في عرف الفرس غلب استعماله في الصريح فإذا قال " رهاكردم " أي سرحتك يقع به الرجعي مع أن أصله كناية أيضا، وما ذاك إلا لأنه غلب في عرف الفرس استعماله في الطلاق وقد مر أن الصريح ما لم يستعمل إلا في الطلاق من أي لغة كانت اھ(3/299)-