اگر کوئی لڑکی کسی مسئلے مسائل میں آپس کے جھگڑے کی وجہ سے اپنے شوہر سے اگر طلاق لینا چاہتی ہے تو کیا شریعت میں اس کی اجازت ہے ؟ ان کی ایک سال کی بچی بھی ہےاب شریعت میں لڑکی لڑکے سے طلاق لے سکتی ہیں ؟ مہربانی فرمائیں جزاک اللہ۔
گھر کی معمولی ناچاقیوں کی وجہ سے مذکور لڑکی کو شوہر سے طلاق کا مطالبہ نہیں کرنا چاہیئے بلکہ مسئلے کو سلجھانے کی کوشش کرنی چاہیئے ، اگر خود اس مسئلے کو حل نہ کرسکیں تو اپنے خاندان کے بڑوں کو بیچ میں ڈال کر اس کو حل کرانے کی کوشش کریں ، تاہم اگرہر ممکن کوشش کے بعد بھی نباہ کی کوئی صورت نہ بن سکے تو شوہر سے طلاق یا خلع کے ذریعہ علیحدہ ہونے میں بھی حرج نہیں، اس صورت میں لڑکی گنہگار بھی نہیں ہوگی۔
كما في التزيل العزیز: الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ وَلَا يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَأْخُذُوا مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ شَيْئًا إِلَّا أَنْ يَخَافَا أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيمَا افْتَدَتْ بِهِ تِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ فَلَا تَعْتَدُوهَا وَمَنْ يَتَعَدَّ حُدُودَ اللَّهِ فَأُولَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ (البقرة/229)۔
وفي الهندية : إذا تشاق الزوجان وخافا أن لا يقيما حدود الله فلا بأس بأن تفتدي نفسها منه بمال يخلعها به فإذا فعلا ذلك وقعت تطليقة بائنة ولزمها المال كذا في الهداية.اھ(ج 1 / ص 488)
وفي الشامية (قوله: للشقاق) أي لوجود الشقاق وهو الاختلاف والتخاصم. وفي القهستاني عن شرح الطحاوي: السنة إذا وقع بين الزوجين اختلاف أن يجتمع أهلهما ليصلحوا بينهما، فإن لم يصطلحا جاز الطلاق والخلع. اهـ (3/441)۔