کیا مندرجہ ذیل بات درست ہے کہ شافعیہ کہتے ہیں کہ نکاح سے پہلے ظہار بالکل بے معنی ہے , ابن عباسؓ اور قتادہؒ کی بھی یہی رائے ہے اور کیا شافعی تعليق ظہار اور طلاق کے قائل ہیں ؟ کیا ابن عباس ؓکی بھی یہی رائے ہے ؟
شوافع حضرات نکاح سے قبل تعلیق طلاق و ظہار کے تو قائل نہیں ، البتہ نکاح کے بعد تعلیق طلاق اور ظہارکے متعلق ان کا یہ مسلک نہیں ہے۔
كما في مغني المحتاج : تحت قوله )خطاب الاجنبية بطلاق) كانت طالق (وتعليقه) اى الطلاق (بنكاح) كان تزوجتها فهي طالق (وغيره) اى النكاح كان دخلت الدار فانت طالق (لغو) اى لا تطلق على زوجها اهـ (ج 3 ص 357)
وفي تحفة المحتاج فی شرح المنھاج : (ولو قال إن ظاهرت من فلانة) ولم يقيد بشيء فأنت علي كظهر أمي (وفلانة) أي والحال أنها (أجنبية فخاطبها بظهار لم يصر مظاهرا من زوجته) لعدم صحته من الأجنبية (إلا أن يريد اللفظ) أي التعليق على مجرد تلفظه اھ(10/343)
وفی حاشیۃ اقلیوبی و عمیرة۔ط دارالفکر،بیروت: لا طلاق واقع و لا معقود، وناظر الكسائي أبا يوسف في هذه المسألة وتعلق بقولهم السيل لا يسبق المطر انتهى و قال الرافعي احتج الأصحاب بما روي عن «عبد الرحمن بن عوف، قال دعتني أمي إلى قرابة لها، فزودوني في المهر فقلت إن نكحتها فهي طالق ثلاثا، فسألت النبي - صلى الله عليه وسلم - فقال: أنكحها فإنه لا طلاق قبل النكاح» . وبأنه يمين بالطلاق قبل النكاح، فيلغو كالتعليق المطلق، كأنه يقول لأجنبية إن دخلت الدار فأنت طالق ثم ينكحها ثم تدخل فإنه لا يقع اتفاقا انتهى،(3/336)۔
’’اگر میری بیوی دو دن کے اندر نہیں آئی تو وہ میری بیوی نہیں ہوگی‘‘ کہنے سے طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0’’اگر میں نے اپنی بیوی کو والد صاحب کے ساتھ ایک گھر میں بٹھایا تو وہ مجھ پر طلاق ہو گی‘‘ سے تعلیق طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0اگر کوئی اپنے بیٹے سے کہدے کہ "اگر میں نے تیرے لئے شادی کی تو بیوی کو طلاق "اس صورت میں بیٹے کی شادی کی کیا ترتیب ہوسکتی ہے ؟
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0معلق طلاق کی صورت میں جب ایک دفعہ شرط پائے جانے کی وجہ سے طلاق ہو جائے تو دوبارہ طلاق واقع نہ ہونا
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0