کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام درجِ ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ اگر دو بار کوئی طلاق بول دے تو کیا ہو جاتی ہے ؟
جی ہاں ! اگر کوئی شخص دو دفعہ طلاق دیدیتا ہے تو اس سے اسکی بیوی پر دو طلاقیں واقع ہو جاتی ہیں ، اور آئندہ کیلئے اس کے پاس فقط ایک طلاق کا اختیار رہتا ہے۔
كما في الدر:(صريحه ما لم يستعمل إلا فيه) ولوبالفارسیة(كطلقتك وأنت طالق ومطلقة) اھ(247/3)
و في الهداية اذا طلق الرجل تطليقة رجعية او تطليقتين فله ان يراجعها اھ(405/2)