کیا فرماتے مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ اسلامی بینکاری کے نام سے جو بینک شریعت کے مطابق بینکاری کرتے ہیں جیسے المیزان ، البرکۃ , دبئی اور البنک الاسلامی وغیرہ ، ان کے ساتھ ڈیلنگ کرنا صحیح ہے، اور وہ لوگ فتوی بھی پیش کرتے اور کہتے ہیں کہ معتمد فضلاء کی زیر نگرانی کام چلتے ہیں تو کیا میرے لئے ان کی بات ماننا صحیح ہے اور (MCB،HBC) جیسے کنونشل بینکوں کی جگہ ایسے بینکوں کے ساتھ ڈیلنگ کرنا صحیح ہے؟ ہم لوگ اکثر اپنے پیسوں کی حفاظت کے لئے HBL کے کرنٹ اکاونٹ استعمال کرتے ہیں تو اس کی جگہ اس وجہ سے المیزان جیسے بینکوں سے ڈیلنگ کریں کہ وہ اسلامی نقطہ نظر سے درست چلاتے ہیں صحیح ہے؟ ان فضلاء پر اعتماد کرتے ہوئے مذکور اسلامی بینکوں کے ساتھ ہر قسم کی ڈیلنگ کرنا صحیح ہے؟
المیزان اور بینک الاسلامی وغیرہ اسلامی بینکوں کے طرف سے جو کاروباری فارمولا بتایا جاتا ہے وہ اگر چہ دوسرے مروّج بینکوں سے کہیں بہتر اور شریعتِ مطہّرہ کے بھی قریب تر ہے مگر اس نظام کو چلانے والے افراد اصولِ شرعیہ سے ناواقفیت کی بناء پر عموماً ان معاملات اور فارمولوں کو بجا لانے میں غلطی کر جاتے ہیں جو در اصل ضابطے کی خرابی اور غلطی نہیں بلکہ متعلقہ فرد کی ناسمجھی اور غلطی ہوتی ہے، جس کی بناء پر انجام دیا جانےوالا معاملہ بھی شرعاً ناجائز ہوجاتاہے، نیز ان اداروں کے غیر سرکاری اور پرائیوٹ ہونے کی وجہ سے ان کے اصول وضوابط کے بدلنے کا بھی اندیشہ رہتا ہے، جس کی بناء پر علماءِ کرام ان بینکوں کے ذریعے کی جانیوالی سرمایہ کاری کو بھی شرعاً ناجائز اور حرام بتلاتے ہیں، حالانکہ بنیادی فارمولے کے درستگی کی صورت میں اگر اصولِ شرعیہ سے واقفیت رکھنے والے کسی معتمد شرعی ایڈوائزر کی نگرانی میں یا اس پورے معاملہ اور معاہدہ کی وضاحت لکھ کر کسی بھی معتمد دارالافتاء سے اس کی حقیقت درست معلوم ہونے کے صورت میں اس بینک کے ساتھ معاملہ کر لیا جائے تو یہ شرعاً بھی جائز اور درست کہلائے گا، اور اس میں کسی کا اختلاف نہیں جبکہ کسی بھی بینک کے کرنٹ اکاؤنٹ میں رقم جمع کرانا شرعاً جائز ہے چاہیے وہ اسلامی کہلاتا ہو یا کنونشل۔