السلام علیکم! کیا کرونا وائرس کی وجہ سے لاک ڈاؤن کی صورت میں باجماعت نماز ادا کرنے کےلیے مسجد میں جانا چاہیے یا نہیں؟ علاوہ ازیں ہماری مسجد میں تبلیغی جماعت والے آئے ہیں جو کہ مختلف علاقوں سے آئےہیں اور ان کے ذریعے کرونا وائرس پھیلنے کا خطرہ ہے تو کیا ان کی موجودگی میں مسجد جانا چاہیے یا نہیں؟ اس کے علاوہ جن لوگوں کو نزلہ زکام وغیرہ رہتاہے ان کو مسجد جانا چاہیے یا نہیں؟ اور اس صورتحال میں نمازِ جمعہ کا کیا حکم ہے؟
سائل کے مقامی علاقے میں اگر گھروں سے نکلنے پر پابندی نہ ہو تو وہاں مسجد میں تبلیغی جماعت والوں کے ہوتے ہوئے مقامی لوگوں میں سے صحت مند اور تندرست لوگوں کو احتیاطی تدابیر اپناتے ہوئے مسجد میں باجماعت نماز ادا کرنے کااہتمام کرنا چاہیے، البتہ جو لوگ بیمار ہوں اور ان میں کرونا وائرس کی علامات موجود ہوں تو ایسے لوگوں کو مسجد جانے کےبجائے اپنے گھروں میں نماز پڑھنے کا اہتمام کرنا چاہیے، تاہم یہ سوچ رکھنا کہ تبلیغی جماعت کے ذریعہ کرونا وائرس پھیلنے کاخطرہ ہے، غلط اورمیڈیا پروپیگنڈہ سے متاثر ہونے کا نتیجہ ہے، جس سے احتراز کرنا چاہیے۔
كما في مسند الشافعي: عن ابن عباس رضي الله عنهما، أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: من ترك الجمعة من غير ضرورة كتب منافقا في كِتَابٍ لا يُمحى ولايبدل وفي بعض الحديث: «ثلاثاً۔ (70/1)۔
وفي الدر المختار: هي فرض عين يكفر جاحدها) لثبوتها بالدليل القطعي كما حققه الكمال وهي فرض مستقل أكد من( الظهر الخ)137/2۔
وفي الشامية: (قوله بالدليل القطعي) وهو قوله تعالى - {يا أيها الذين آمنوا إذا نودي للصلاة من يوم الجمعة فاسعوا} [الجمعة: 9] الآية - وبالسنة والإجماع (قوله كما حققه الكمال) وقال بعد ذلك وإنما أكثرنا فيه نوعا من الإكثار لما نسمع عن بعض الجهلة أنهم ينسبون إلى مذهب الحنفية عدم افتراضها، ومنشأ غلطهم قول القدوري ومن صلى الظهر يوم الجمعة في منزله ولا عذر له كره وجازت صلاته وإنما أراد حرم عليه وصحت الظهر لما سيأتي (قوله آكد من الظهر) أي لأنه ورد فيها من التهديد ما لم يرد في الظهر، من ذلك قوله - صلى الله عليه وسلم - " «من ترك الجمعة ثلاث مرات من غير ضرورة طبع الله على قلبه» رواه أحمد والحاكم وصححه، فيعاقب على تركها أشد من الظهر ويثاب عليها أكثر ولأن لها شروطا ليست للظهر تأمل . اهـ -(137/2)
وفي بدائع الصنائع: وأما بيان من تجب عليه الجماعة فالجماعة إنما تجب على الرجال العاقلين الأحرار القادرين عليها من غير حرج. (155/1)۔