میرا شوہر شادی کے تین (3) مہینے بعد ہی اپنی غلط حرکتوں میں دوبارہ شروع ہو گیا تھا، میری ایک تین (3) سال کی بیٹی ہے، اور میں تین (3)ماہ کی حاملہ ہوں، میرا شوہر لڑکیوں سے زنا کرتا ہے، اور مجھے شدید اذیتیں دیتا ہے، کیا میں طلاق کا مطالبہ کر سکتی ہوں؟
سائلہ کا بیان اگر درست اور مبنی بر حقیقت ہو، تو سائلہ کے شوہر کا شادی شدہ ہونے کے باوجود زنا جیسے قبیح عمل میں مبتلا رہنا بہت بڑا گناہ ہے، جس کی وجہ سے وہ سخت گنہگار ہوا ہے، اس پر لازم ہے کہ اپنے مذکور طرزِ عمل پر اللہ کے حضور بصدق دل تو بہ واستغفار کر کے آئندہ کیلئے اس سے مکمل طورپر بچنے کا پختہ عزم کرے، چنانچہ اگروہ ایسا کر لیتا ہے تو سائلہ کو اس سے طلاق کامطالبہ کرنا درست نہیں، لیکن اگر وہ سمجھانے کے با وجود بھی اپنے برے افعال سے باز نہیں آئےتو ایسی صورت میں سائلہ اس سے طلاق کا مطالبہ کر کے علیحد گی حاصل کر سکتی ہے۔
كما في رد المحتار:تحت (قوله وفاسق) من الفسق: وهو الخروج عن الاستقامة، ولعل المراد به من يرتكب الكبائر كشارب الخمر، والزاني وآكل الربا ونحو ذلك، كذا في البرجندي إسماعيل.(1/560)
و في الهندية: إذا تشاق الزوجان وخافا أن لا يقيما حدود الله فلا بأس بأن تفتدي نفسها منه بمال يخلعها به فإذا فعلا ذلك وقعت تطليقة بائنة ولزمها المال كذا في الهداية أھ(ج 1 ص 488)