میر اسوال یہ ہے کہ اگر کوئی مرد اپنی بیوی کے حقوق ادا کرنے کے قابل نہ ہو ، مطلب وہ ہمبستری وغیرہ نہ کر سکتا ہو، کسی بیماری کیوجہ سے ، تو کیاوہ اپنی بیوی کو طلاق دے سکتا ہے تا کہ بیوی کسی اور سے شادی کر کے اپنی زندگی گزار سکے ۔
اگر کوئی شخص کسی بیماری کی وجہ سے اپنی بیوی کے حقوق ادا کرنے پر قادر نہ ہو، تو اسے چاہئے کہ سب سے پہلے اپنے علاج و معالجہ کی کوشش کرے، تاہم اگر کسی وجہ سے اس میں کامیابی حاصل نہ ہو اور بیوی کی طرف سے بھی طلاق کا مطالبہ ہو ، تو ایسی صورت میں بیوی کو طلاق دے کر،اپنے نکاح کے بندھن سے آزاد کر دینا چاہئے، تا کہ وہ اپنی مرضی سے کسی دوسری جگہ نکاح کر سکے۔
کمافی الدرالمختار: وشرعا (رفع قيد النكاح في الحال) بالبائن (أو المآل) بالرجعي (بلفظ مخصوص)(الی قولہ) (وإيقاعه مباح) عند العامة لإطلاق الآيات أكمل (وقيل) قائله الكمال (الأصح حظره) (أي منعه) (إلا لحاجة) الخ(3/ 227)