میری سالی کے شوہر نے اسے ان الفاظ ” میں اس عورت کے ساتھ نہیں رہ سکتا، میں اسکو طلاق دیتا ہوں“ کے ذریعے ایک طلاق دی ہے ، اب اس معاملے میں شریعت کا کیا حکم ہے ؟ رہنمائی فرمائیں۔
سائل کا بیان اگر واقعہ درست اور مبنی بر حقیقت ہو ، اس طور پر کہ سائل کی سالی کے شوہر نے اسے مذکور الفاظ "میں اس عورت کے ساتھ نہیں رہ سکتا، میں اسکو طلاق دیتا ہوں" کہہ دیے ہوں تو اسکی وجہ سے سائل کی سالی پر ایک طلاق رجعی واقع ہو چکی ہے، جس کا حکم یہ ہے کہ شوہر کو عدت کے اندر رجوع کرنے کا حق حاصل ہے ، البتہ اگر شوہر نے عدت میں رجوع نہیں کیا، تو عدت گزرنے کے بعد دونوں کا دوبارہ ایک ساتھ رہنے کیلئے گواہوں کی موجودگی میں نئے حق مہر کے تقرر کے ساتھ با قاعدہ نکاح کرنالازم ہو گا، تاہم اس رجوع یا نکاح کے بعد شوہر کو فقط دو طلاقوں کا اختیار ہو گا، اس لئے آئندہ کیلئے طلاق کےمعاملہ میں احتیاط کی ضرورت ہے۔
کمافی الھندیة: (الصريح)وهوكأنت طالق ومطلقة وطلقتك وتقع واحدة رجعية وإن نوى الأكثر أو الإبانة أو لم ينو شيئا كذا في الكنز.(1/354)-