کروناکی عذر سے جمعہ ترک کرنا جائز ہے؟
مذکورہ وائرس کے خوف اور اندیشہ کی بناء پر نمازِ جمعہ چھوڑنا تو جائز نہیں، البتہ جس جگہ یہ بیماری اور وباء عام ہوچکی ہو، زیادہ لوگوں کی بھیڑ اور اجتماع سے اس بیماری کے مزید پھیلنے کا اندیشہ ہو تو بجائے ایک جگہ جمعہ پڑھنے کے متعدد جگہوں میں نماز جمعہ قائم کرنے کا اہتمام کیا جائے، البتہ اگر کسی وجہ سے ایسا کرنا بھی ممکن نہ ہو، اور جمعہ کی نماز نہ پڑھ سکیں تو پھر انفرادی طور پر ظہر کی نماز پڑھ لی جائے۔
ففی مسند الشافعي: عن ابن عباس رضي الله عنهما، أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «من ترك الجمعة من غير ضرورة كتب منافقا في كتاب لا يمحى ولا يبدل» وفي بعض الحديث: «ثلاثا» اھ (ص: 70)
وفی الدر المختار: (هي فرض) عين (يكفر جاحدها) لثبوتها بالدليل القطعي كما حققه الكمال وهي فرض مستقل آكد من الظهر اھ (2/ 136)
وفی الفتاوى الهندية: وتؤدى الجمعة في مصر واحد في مواضع كثيرة وهو قول أبي حنيفة ومحمد - رحمهما الله تعالى - وهو الأصح وذكر الإمام السرخسي أنه الصحيح من مذهب أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - وبه نأخذ، هكذا في البحر الرائق. (1/ 145) واللہ أعلم بالصواب!