میں نے اپنی بیوی کو (میر من طلاق مال ) بولا تھامو بائل پر ، پھرمیں نے اپنے مسجد کے مفتی صاحب سے پوچھا تھا توانہوں نے کہا تھا کہ نہیں ہوتی، پھر میرے دل میں شک تھا، تو میں نے اپنے علاقے دارالافتاء کے مفتی صاحب سے پوچھا تو اس نے کہا کہ ہو جاتی ہے ، تو کس کی بات مانوں ، مسجد کے مفتی کی یا دارالافتاء کی ؟
واضح ہو کہ "طلاق" کے لفظ سے اس وقت طلاق واقع ہوتی ہے جب صراحت کیساتھ یا معنوی طور پر اس لفظ کی نسبت بیوی کی طرف کی جائے ، جبکہ "میر من طلاق " یا "طلاق مال " پشتو کے عرف ورواج کے مطابق سب وشتم یا غصے اور ناگواری کےاظہار کیلئے استعمال کیا جاتا ہے ، مذکور الفاظ سے طلاق دینے کا قصد وارادہ نہیں ہوتا،لہذا سائل نے بھی اگر اسی معانی کیلئے اپنی بیوی کو مذکور الفاظ کہہ دیئے ہوں تو ان الفاظ سے سائل کی بیوی پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی بلکہ دونوں حسب سابق میاں بیوی کی طرح زندگی بسر کر سکتے ہیں۔
كما في رد المحتار: أن الصريح لا يحتاج إلى النية، ولكن لا بد في وقوعه قضاء وديانة من قصد إضافة لفظ الطلاق إليها عالما بمعناه ولم يصرفه إلى ما يحتمله اھ(3/250)