میں نے پوچھنا یہ تھا کہ اگر شوہر ایک طلاق دیدے اور اس کی عدت ابھی رہتی ہو، اور رجوع کئے بغیر اس عدت میں دوسری طلاق بھی دیدے تو دو شمار ہوں یا ایک طلاق شمار ہو گی ؟
واضح ہو کہ ایک طلاق دینے کے بعد شوہراگر عدت کے اندر دوسری طلاق بھی دیدے تو اس سے دوسری طلاق بھی واقع ہو جائے گی، جس کے بعد شوہر کو آئندہ فقط ایک طلاق کا اختیار رہے گا، جب کبھی وہ ایک طلاق بھی دیدے تو اس کی بیوی اس پر حرمت مغلظہ کے ساتھ حرام ہو جائے گی۔
وفي الدر المختار: (فروع) إنما يلحق الطلاق لمعتدة الطلاق(3/313)
کمافي رد المحتار تحت ( قوله إنما يلحق الطلاق لمعتدة الطلاق إلخ) فصار الحاصل أن الطلاق يلحق في عدة فرقة عن طلاق أو إباء أو ردة بدون لحاق بدار الحرب اھ(ج 3 / ص (313) -