میری شادی میرے ماموں کی بیٹی کے ساتھ ہوئی ہے ،میرا اس طرف بالکل بھی ذہن نہیں تھا، مگر والدہ اکیلی تھی اور میرے بھائی نے ماموں کی بیٹی کے ساتھ رشتہ کرنے پر مجھے مجبور کیا، کہ والدہ اکیلی ہیں، بھائی کے کہنے پر میں نے رشتہ تو کر لیا، مگر 2017 سے اب تک میں بہت پریشان ہوں، اور بہت افسردہ ہوں، میری بیوی میرے ساتھ بہت اچھی ہے، مگر مجھے پسند نہیں ہے ، اور میرے ذہن نے اسے ابھی تک قبول نہیں کیا ہے ، اور آگے بھی مشکل لگتا ہے کہ اسے ذہنی طور پر قبول کر پاؤں، میری اور میری بیوی کے درمیان لڑائی کبھی نہیں ہوئی ہے، مگر میں نے اسے ذہنی طور پر قبول نہیں کیا، بہت پریشان رہتا ہوں دل ہی دل میں اس کو ڈانٹار ہتا ہوں ، والدہ کو کبھی کبھی بتاتا ہوں کہ میں تنگ ہوں، پھر میری والدہ کہتی ہیں سب لڑکیاں ایک جیسی ہوتی ہیں دوسری شادی کر لینا، لیکن میرے وسائل اتنے نہیں ہیں کہ میں دوسری شادی کر سکوں، کسی کام میں دل نہیں لگتا، ماموں کی بیٹی ہونے کی وجہ سے اسے چھوڑ نہیں سکتا، مہربانی فرما کر راہنمائی فرما دیں، بہت پریشان ہوں۔
سائل نے اپنی بیوی سے ذہنی ہم آہنگی نہ ہونے کی وجوہ بیان نہیں کیں کہ کس وجہ سے ان کو ذہن قبول نہیں کرتا، تاہم جب سائل دوسری شادی بھی نہیں کر سکتا اور ماموں کی بیٹی ہونے کی وجہ سے بیوی کو طلاق دیکر اس کا چھوڑنا بھی سائل کے لئے مشکل ہے تو ایسی صورت حال میں سائل کو سب صبر و تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے اللہ تعالی کے فیصلے پر راضی ہونا چاہیئے ، امید ہے کہ اللہ تعالی سائل کو اس کا بہتر صلہ عطاء فرمائیں گے جبکہ بلاوجہ بیوی کو طلاق دینا اور اس کے حقوق سے لا پرواہی کر نا بھی سخت گناہ ہے اس لئے سائل کو چاہیئے کہ معمولی معمولی باتوں کی وجہ سے پریشان ہونے کے بجائے گھر بسانے اور آباد کرنے کی فکر کرے۔ واللہ اعلم بالصواب