کیا فرماتے ہیں علماء دین مسائل ذیل کے بارے میں:
(۱) قبروں پر میت کے نام کا پتھر لگانا کیسا ہے؟
(۲) قبروں کے پتھر لکھنے کو بطور کاروبار کرنا کیسا ہے؟
(۳) قبروں کو پختہ کرنے کے لئے جو ماربل اور پتھر لگائے جاتے ہیں ان پتھروں کا بیچنا شرعاً کیسا ہے؟ تعاون علی الاثم ہے یا نہیں؟
اگر شرعاً یہ کاروبار صحیح نہ ہو تو اس کا کیا حل ہے جبکہ کوئی نیا کاروبار شروع کرنا فوری طور پر مشکل ہو۔ بیّنوا توجروا!
(۱) میت کی پہچان اور اس کی تاریخِ وفات وغیرہ پر مشتمل قبر کے سرہانے تختی لگانے کی گنجائش ہے مگر اس پر آیاتِ کریمہ وغیرہ لکھنے سے احتراز لازم ہے۔
(۳،۲) اگر یہ پتھر قبر پختہ بنانے کے علاوہ دیگر تعمیرات وغیرہ کے استعمال وغیرہ میں بھی استعمال ہوسکتے ہوں جیسا کہ ظاہر ہے تواس صور ت میں ان کا کاروبار بلاشبہ جائز اور درست ہوگا جبکہ تختی لکھنے اور لکھوانے کا مشغلہ اختیار کرنے کی بھی اجازت ہے۔
فی المشكوٰة: قال رسول الله ﷺ اعلم بھا قبر أخی وأدفن إلیه من مات من اھلی. رواه ابوداوود. (۱۴۹)
وفی الشامیة: فان الكتابة طریق إلی تعرف القبر بھا وان احتیج إلی الكتابة حتی لایذھب الاثر ولا یمتھن فلا باس به فاما الكتابة بغیر عذر فلا. اھ حتی انه یكره كتابة شیء علیه من القرآن أو الشعر أو إطراء مدح ونحو ذلك. ج۲ ص۲۳۸)
وفی الشامیة: (قوله مغربا للنھر) قال فیه من باب البغاة وعلم من ھذا انه لایكره بیع ما لم تقم المعصیة به كبیع الجاریة المغنیة والكبش النطوح والحمامة الصغیرة والعصیر والخش ممن یتخذ منه المعازف الخ (ج۶ ص۳۹۱)
وفیھا (وجاز اجارة بیت فیه) ھذا عنده ایضًا لان الاجارة علی منفعة البیت ولھذا یجب الاجر بالتسلیم ولا معصیة فیه وانما المعصیة بفعل المستاجر وھو مختار فینقطع نسبة عنه. (ج۶ ص۳۹۲۹
وفی اعلاء السنن والحكمة تقتضیه لان حاجة الانسان تتعلق بما فی ید صاحبه وصاحبه لا یبذله بغیر عوض. (۱۴/۳)