روز گار کی وجہ سے میں اپنے گھر سے دور رہتا ہوں ، دو دن پہلے میرا اپنی بیوی سے کسی بات پر جھگڑا ہوا، میں نے ا سے دھمکی دی کہ اگر وہ باز نہ آئی تو میں اس کو چھوڑ دوں گا، میر امقصد اسکو ڈرانا تھا کہ وہ باز آجائے ، اور معافی مانگے ، لیکن اس نے کہا کہ اسے ڈر نہیں ہے ، جو کہنا ہے کہہ لو، میں نے موبائیل میں میسج لکھا (t……) اور بھیج دیا، میری نیت تھی کہ وہ ڈر جائے، میں نے مکمل لفظ نہیں لکھا، اس نے جواب میں کہا کہ مکمل لفظ لکھو اور دوبارہ میسج بھیجو میں نے پھر وہی میسج لکھا اور بھیج دیا ایسا تین مرتبہ ہوا،کیا میرا اس سے تعلق قائم ہے یا ختم ہوچکا ہے ؟
سائل کا بیان اگر واقعہ درست اور مبنی بر حقیقت ہو اس طور پر کہ سائل نے بیوی کیساتھ میسج پر بات چیت کے دوران فقط تین دفعہ (T) لکھ کر بھیج دیا ہو، طلاق کا لفظ مکمل نہ لکھا ہو تو ایسی صورت میں سائل کی بیوی پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی، دونوں حسب سابق میاں بیوی کی حیثیت سے زندگی بسر کر سکتے ہیں، البتہ آئندہ اس طرح کے الفاظ استعمال کرنے سے بھی احتیاط کرنی چاہیئے ۔
كما في البحر الرائق : وإن حذف اللام فقط فقال أنت طاق لا يقع، وإن نوى ولو حذف اللام، والقاف بأن قال أنتِ طا وَسَكَتْ أَوْ أَخَذَ إِنْسَانُ فَمہ لَا يقع وَإِنْ نوی اھ (3/274)۔
وفی الهندية: وإن حذف اللام والقاف بأن قال أنتِ طا وسکت أَوْ أَخذ انسان فمه لا يقع وإن نوى كذا في البحر الرائق (357/1)۔ واللہ اعلم بالصواب