السلام علیکم! میاں بیوی کے درمیان اختلافات و دوریاں ختم کرنے، دلوں میں محبت قائم کرنے اور خلع سے بچنے کا وظیفہ عنایت فرمائیں، شوہر وظیفہ کرنا چاہتے ہیں۔
دوسرا یہ کہ طلاق یا خلع کی عدّت کے دوران شوہر اور بیوی ایک ہی گھر میں رہ سکتے ہیں، دونوں صورتوں میں عدّت کی میعاد کتنی ہو گی؟
شوہر کو چاہیے کہ وہ بعد از نمازِ عشاء گیارہ دانے سیاہ مرچ کے لے کر اول آخر گیارہ مرتبہ درود شریف اور درمیان میں گیارہ تسبیح”یَالَطِیْفُ،یَا وَدُوْدُ“ کی پڑھیں، جب سب پڑھ چکیں تو ان سیاہ مرچوں پر دم کر کے تیز آنچ میں ڈال دیں، اور اللہ رب العزت سے بھی دعا کرتے رہیں، ان شاء اللہ زوجین کے درمیان محبت والفت قائم ہو جائے گی، اور یہ وظیفہ کم از کم چالیس دن تک کرتے رہیں، مجرب عمل ہے۔ (ماخوذ از بہشتی زیور )
لیکن اگر اس کے باوجود بھی نباہ ممکن نہ ہو سکے اور نوبت طلاق تک پہنچ جائے، تو طلاق کے بعد عورت پر اپنے شوہر کے گھر عدّت گزار نالازم ہو گا، لیکن اگر شوہر نے طلاقِ بائن یا تین طلاقیں دیدی ہوں یا شوہر کی رضامندی سے خلع ہو چکا ہو ،تو اس کی وجہ سے چونکہ میاں بیوی کا نکاح ختم ہو جاتا ہے، اس لئے بیوی کیلئے عدت کے دورن شوہر سے پردہ کا اہتمام کر نالازم ہو گا۔
کما في الدر المختار: (وتعتدان) أي معتدة طلاق وموت (فی بيت وجبت فیه) ولا يخرجان منه (إلا أن تخرج أو يتهدم المنزل، أو تخاف) انهدامه، أو (تلف مالها، أو لا تجد كراء البيت) ونحو ذلك من الضرورات فتخرج لأقرب موضع إليه اھ(3/ 536)
وفي الهداية: "وإذا طلق الرجل امرأته طلاقا بائنا أو رجعيا أو وقعت الفرقة بينهما بغير طلاق وهي حرة ممن تحيض فعدتها ثلاثة أقراء "(الی قوله) وإن كانت ممن لا تحيض من صغر أو كبر فعدتها ثلاثة أشهر۔ اھ (2/ 274)