امجد موسوس کو دوران نماز طلاق کے بارے میں وسوسے آ رہے تھے، اس نے دل میں کہا کہ امجد کی طلاق کی نیت ہے، امجد نے سورہ طلاق کی تلاوت نماز میں کہ امجد کی نیت نماز پڑھنے کی تھی، وہ پریشان ہے ،کیونکہ وہ وساوس سے تنگ آگیا تھا،امجد نے نماز اتنی پڑھی کہ اس کے کانوں نے سنی اس پر شرعي حکم کیا ہو گا؟
شخص مذکور مسمیٰ امجد کو چاہیے کہ بلاوجہ شکوک و شبہات میں نہ پڑے اور نہ ہی ان وساوس سے اسکی بیوی پر کوئی طلاق واقع ہوئی ہے اس لئے پریشان ہونے کی بھی ضرورت نہیں۔
وفي الرد: تحت قوله لتركة الإضافة أى المعنوية فإنها الشرط والخطاب من الإضافة المعنوية وكذا الإشارة - اھ ( ج ۳ ص ۲۴۸)
وفي صحيح البخاري : قال عقبة عامر لا يجوز طلاق الموسوسة حديث النفس ولا مؤاخذة به - اھ ( ج ۲ ص ۷۹۳)