السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ میں نو سال کا تھا جب میرے والد صاحب کا انتقال ہوگیا، میرے ابو کے انتقال کے بعد میرے سگے چچا اور میرے دادا نے میری والدہ کے اوپر قتل کا الزام لگایا اور پورے خاندان میں میری والدہ کے خلاف بہت ناز بیا گفتگو کی ، انہوں نے عدالت میں میری والدہ سے بچوں کی کفالت لینے کا مقدمہ کردیا، انہوں نے یہ مقدمہ کیا کہ میری والدہ اچھے کردار کی نہیں ہیں، اور وہ بچوں کی اچھی کفالت نہیں کرسکتے، مگر یہ کیس وہ عدالت میں بہت جلدہی ہار گئ، اس ساری صورت حال میں میری والدہ نے بہت پریشانی کا سامنا کیا اور بہت زہنی دباو جھیلا، میرے چچا اور میرے دادا اکثر ہمارے گھر آتے تھے ، اور میرے والدہ سے بہت بدتمیزی سے بحث کرتے، اور کچھ کاغازات پر زبردستی سائن کروانے کی کوشش کرتے، اصل بات یہ تھی، میرے والد کی جائیداد تھی، وہ میرے دادا اور چچا زبردستی حاصل کرنا چاہتے تھے، بغیر کسی شرعی بٹوارے کے، ان سب باتوں کا میں عینی شاہد ہوں میں نے خودیہ سب اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے، میری والدہ نے یہ ساری تکلیفیں اور بدتمیزی کیسے برداشت کی یہ ہم اور اللہ ہی جانتا ہے، کئی عرصہ بعد میرے دادا کا انتقال ہوگیا، انتقال کے بعد میرے چچا دادا کے گھر میں تقریباً دس سال تک بغیر کرایہ دیے رہتے رہے ، پھر میں جو سب سے چھوٹا تھا، اپنے گھر میں جب اٹھارہ سال کا ہوا، تو پھر میری والدہ نے میرے ابو اور دادا کی جائیداد کا شرعی طریقے سے بٹوارہ کرنے کی کوشش شروع کی، جس میں وہ الحمد اللہ کامیاب ہوگئیں، مگر میرے چچا جو انتہائی لالچی آدمی ہیں، انہوں نے اپنی بہن یعنی میری پھپو کے حصے پر بھی قبضہ کرلیا، اور آج تک نہیں دیا، ہم تین بھائی ہیں، میرے سب سے بڑے بھائی شروع سے ہی میرے دادا اور چچا کی صحبت میں رہے، اورانہوں نے زندگی کا زیادہ حصہ انہی کے ساتھ گزارا،اسی وجہ سے ان کی تربیت بھی ویسی ہی ہوئی اور وہ انتہائی بدزبان اور بداخلاق ہوگئے۔ وہ بھی میری والدہ کے ساتھ بہت بدتمیزی سے پیش آتے تھے۔ لالچ اور دنیا کی محبت بھی ان میں نمایاں تھی۔آج سے کئی برس قبل انہوں نے بہت سے بینکوں سے قرضے لے لیے ہمارے گھر کا پتہ پر اور میری والدہ کا زیور چوری کر کے آسٹریلیا فرار ہوگئے، اب وہ مستقل وہی رہتے ہیں، ان کے جانے کے بعد بینک والے ہماری گھر آتے تھے، اور ہم سے قرض کی واپسی کا مطالبہ کرتے رہتے ، یہ پریشانی بھی میری والدہ نے اور ہم بھائیوں نے کافی عرصے تک برداشت کی ، آج بھی میرے چچا اور میرے بھائی اپنے کسی بھی عمل پر قطعاً نادم نہیں ہیں، آج بھی جب بھی انہیں کوئی موقع ملتا ہے، میری والدہ کے بارے میں بدتمیزی اورزبان درازی سےبلکل گریز نہیں کرتے، میرا سوال یہ ہے کہ ان تمام حالات کے پیش نظر، کیا میرے لیے اپنے چچا اور اپنے بڑے بھائی سے مکمل طور پر قطع تعلق کرنا شرعاً جائز ہے؟ اگر میں ایسا کروں تو کیا مجھ پر کوئی گناہ ہوگا؟
سوال میں درج کردہ بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی پر حقیقت ہو تو سائل کے چچا اور بھا ئی کا مذکور طرز عمل انتہائی غلط اور ناجائز ہے، جس کی وجہ سےوہ گناہ گار ہو رہے ہیں، جس پر انہیں بصدق دل توبہ واستغفار کرنا اور آئندہ کے لیے اپنے مذکور طرز عمل سے اجتناب لازم ہے، تاہم سائل کو چاہیے کہ ان سے مکمل طور پر قطع تعلق کرنے کےبجائے ان سے صلہ رحمی کی کوشش کرے، اور بقدر ضرورت میل جول رکھے، ان شاء اللہ اس پر اللہ تعالی سائل کو اجر وثواب نصیب فرمائیں گے، البتہ اگر ان کے ساتھ تعلقات بحال رکھنے میں مزید مشکلات آنے کا اندیشہ ہو تو ان سے لاتعلقی بھی اختیار کی جاسکتی ہے۔
کما فی شعب الایمان: أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، نا عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ، نا عَبْدُ الْوَهَّابِ، نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، نا أُسَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْخَثْعَمِيُّ، عَنْ فَرْوَةَ بْنِ مُجَاهِدٍ اللَّخْمِيِّ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ، قَالَ: كُنْتُ أَمْشِي ذَاتَ يَوْمٍ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا عُقْبَةُ بْنَ عَامِرٍ، صِلْ مَنْ قَطَعَكَ، وَأَعْطِ مَنْ حَرَمَكَ وَاعْفُ عَمَّنْ ظَلَمَكَ " ثُمَّ قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا عُقْبَةُ بْنَ عَامِرٍ: " أَمْسِكْ لِسَانَكَ، وَابْكِ عَلَى خَطِيئَتِكَ، وَلْيَسَعْكَ بَيْتُكَ " قَالَ: وَكَانَ عُرْوَةُ بْنُ مُجَاهِدٍ يَقُولُ إِذَا حَدَّثَ بِهَذَا الْحَدِيثِ: " أَلَا فَرُبَّ مَنْ لَا يَمْلِكُ لِسَانَهُ، وَلَا يَبْكِي عَلَى خَطِيئَتِهِ، وَلَا يَسَعُهُ بَيْتُهُ " تَابَعَهُ عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ فِي الْحَدِيثِ الْأَوَّل (10/417 رقم الحدیث 7723)۔
مشرکانہ عقائد کے حامل لڑکے کو رشتہ دینا-بدعات میں مبتلاء آباء و اجداد کیلۓ دعاۓ مغفرت کرنا
یونیکوڈ رشتہ داروں کے حقوق و فرائض 0لائیو ٹی وی پروگرامات میں شرکت کرنا کیسا ہے؟/ والد نہ ہو تو بڑے بھائی کا کیا مقام ہے؟
یونیکوڈ رشتہ داروں کے حقوق و فرائض 0غلط رویوں اور الزام تراشی کی وجہ سے رشتہ داروں سے قطع تعلق کرنا
یونیکوڈ رشتہ داروں کے حقوق و فرائض 0شادی شدہ لڑکی کا والدین کو اپنی پریشانیوں سے آگاہ کرنا درست ہے ؟
یونیکوڈ رشتہ داروں کے حقوق و فرائض 0