میں نے اپنی بیوی سے کہا کہ اگر آپ کے ساتھ بہت زیادتی ہو رہی ہے، تو اپنے باپ کو بلا ؤ میں طلاق دے دیتا ہوں تو کیا طلاق واقع ہوجائے گی۔
سائل کا بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو اس طور پر کہ سائل نے فقط مذکور الفاظ " اپنے باپ کو بلاؤ میں طلاق دیدیتا ہوں "کہہ دیے ہوں ، ان الفاظ کے علاوہ سائل نے اور کچھ نہ کہا ہو تو مذکور الفاظ وعدۂ طلاق کے طور پر چونکہ عرف اور محاورے میں مستقبل کیلئے استعمال کیے جاتے ہیں اس لئے ان الفاظ سے سائل کی بیوی پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی بلکہ دونوں کا نکاح بدستور قائم ہے اور وہ حسبِ سابق میاں بیوی کی طرح زندگی بسر کر سکتے ہیں۔
كما في تنقيح الفتاوى الحامدية : صيغة المضارع لا يقع بها الطلاق إلا إذا غلب في الحال كما صرح به الكمال بن الهمام اھ (1/269)۔