السلام علیکم!
۱۔ کیا جینز (jeans) (مردانہ اور زنانہ) کی خرید و فروخت کا کاروبار کرنا جائز ہے ؟
(۲) اگر کسی چیز کا آن لائن اشتہار ( جس میں قیمت درج ہو) لگا دیا جائے اور جب کوئی آرڈر موصول ہو تب خرید کر آرڈر کرنے والے کو ارسال کر دی جائے (یعنی اشتہار لگاتے وقت ہمارے پاس پروڈکٹ موجود نہیں تھی) تو کیا یہ طریقہ کار جائز ہے ؟
۱۔ جینز کی پینٹ کا کاروبار فی نفسہ جائز ہے، مگر بہتر یہ ہے کہ اسے تنگ اور چست نہ سلوایا جائے۔
۲۔ مذکور عقد کی حیثیت شرعاً وعدۂ بیع کی ہے، لہذا اشتہار لگاتے وقت سائل کے پاس اگر چہ پروڈکٹ موجود نہ ہو، لیکن آرڈر موصول ہونے پر سائل کسٹمر کو موقع پر وہ چیز فراہم کر دیتا ہو ، تو ایسی صورت میں یہ معاملہ شرعاً درست ہے، جس میں کوئی حرج نہیں۔
كما في الدر المختار : (و) جاز (بيع عصير) عنب (ممن) يعلم أنه (يتخذه خمرا) لأن المعصية لا تقوم بعينه بل بعد تغيره وقيل يكره لإعانته على المعصية اھ (6/ 391)۔
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): وعلى هذا لا يحل النظر إلى عورة غيره فوق ثوب ملتزق بها يصف حجمها اھ (6/ 366)۔
و في تكملة فتح الملهم للعثماني : فكل لباس ينكشف معه جزء من عورة الرجل المرأة لا تقره الشريعة الاسلامية.. وكذلك اللباس الرقيق أو اللاصق بالجسم الذي يحكى الناظر شكل حصة من الجسم الذي يجب ستره فهو في حكم ما سبق في الحرمة وعدم الجواز اھ (۴/ ۸۸)۔
كما في فقه البيوع للعثماني : الوعد والمواعدة بالبيع ليس بيعاً ولا يترتب عليه آثار البيع من نقل ملكية المبيع ولا وجوب الثمن، واذا وقع الوعد أو المواعدة على شراء شئی أو بیعه بصیغة جازمة وجب علی الواعد دیانة أن یفی به ، ویعقد البیع حسب وعده ولکنه لا یجبر علی ذلك قضاءً اھ(1137/2) ۔
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1