کیا اختلافی مسائل میں مرید کی رائے پیر کے موافق ہونا ضروری ہے؟ بعض لوگ کہتے ہیں کہ ضروری ہے ورنہ پیر سے کما حقہ فائدہ نہیں ہوگا، آپ کیا فرماتے ہیں؟
جاننا چاہیے کہ اصلاح نفس کی نیت سے کسی پیر کے ساتھ بیعت ہونے کے بعد اس کی اتباع ضروری ہے، البتہ یہ اتباع صرف اور صرف طرق تربیت و تشخیص امراض و تجویز تدابیر اور ان مسائل میں ضروری ہے جن کا تعلق اصلاح تربیت باطنی سے ہے، وہ بھی اس وقت تک جب تک کہ ان کا جو از مرید و شیخ کے در میان متفق علیہ ہو، اور اگر اختلاف ہو تو شیخ سے مناظرہ کرناخلاف طریق ہے (یعنی آداب طریقت کے خلاف ہے ) ایسی صورت میں ادب یہ ہے کہ علما سے استفتاء کر کے یا اپنی تحقیق سے حکم متعین کر کے شیخ کو اطلاع کرے کہ میں فلاں عمل کو جائز نہیں سمجھتا اور ہمارے سلسلہ میں اس کی تعلیم ہے مجھ کو کیا کرناچاہیے، اس پر اگر شیخ پھر بھی وہی حکم دے تو اس شیخ کو چھوڑ دینا چاہیے اور اگر وہ ترک کی اجازت دے تو یہ بھی اس کی متابعت ہے، یہ معنی ہیں اتباع کامل کے یعنی جو مرض نفسانی اس نے تجویز کیا ہو یا جو تدبیر اس نے تجویز کی ہو، یا جس کا مشروع ہونا شیخ و مرید میں متفق علیہ ہو، تجویز کیا ہو، ان چیزوں میں اتباع کامل کرے ، ذرا بھی اپنی رائے کو دخل نہ دے اور باقی امور میں اتباع مراد نہیں۔
لہذا مذکورہ تفصیل سے یہ بات واضح ہوگئی کہ شیخ کے ساتھ اختلاف رائے رکھنا درست ہے،لیکن یہ اختلاف بھی حدود کے دائرے میں رہ کر رکھنا چاہیے۔
(ماخوذ از تربیت السالک بتغییر یسیر تالیف حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ)
علماءِ دیوبند کی طرف ،اللہ تعالی سے متعلق عقیدۂ کذب کی نسبت کی وضاحت اور حقیقت
یونیکوڈ دینی جماعتیں 0تبلیغی جماعت کا صرف ایک معروف طریقے پر کام کرنا ۲۔مصنوعی دانت لگانے سے وضو کا حکم ۳۔خودکش حملہ کا حکم
یونیکوڈ دینی جماعتیں 0مروجہ تبلیغی جماعت کا حکم ۲۔بغیر وضو کے قرآنِ کریم چھونا ۳۔عصر کے بعد سجدۂ تلاوت کا حکم
یونیکوڈ دینی جماعتیں 0