میں اپنی بیوی کو لینے گیا تو سسر والوں نے کہا ہم تیری بیوی کو نہیں جانے دیتے، میں نے کہا اللہ کے بندے میرا کوئی قصور ؟ سسرال والوں نے کہا تیری بہن تمہارے گھرہے , اسے اسکے خاوند کے گھر جانے دو، میں نے کہا کہ اس کے ساتھ میرا کوئی مقصد نہیں ، وہ میرے ماں باپ کی مرضی وہ اسے جانے دیں یا نہ جانے دیں , اس پر انہوں نے کہا کہ ہم تیری بیوی کو نہیں جانے دیتے , اس وجہ سےمیں نے کہا کہ میں اس رشتے کو ختم کر دوں گا، اسے چھوڑ دوں گا، صبح تمہیں چِٹھی مل جائے گی، اس پر سسر نے مجھے ماں کی گالیاں دیں ، میں نے کہا اچھا ’’میں ہونڑ چھوڑی دیندائے‘‘ اس میں مجھے طلاق کی سمجھ نہیں تھی، تو سسر مجھے دوبارہ ماں کی گالیاں دیں، اس وجہ میں سسر کی طرف انگلی کا اشارہ کرکے کہا طلاق ہیں، طلاق ہیں طلاق ہیں۔ اس مسئلہ کو اچھی طرح سمجھ کر فتویٰ بنا دینا۔
صورتِ مسئولہ میں سائل کی بیوی پر مجموعی طور پر تین طلاقیں واقع ہو کر حرمتِ مغلظہ ثابت ہو چکی ہے، لہذا اب رجوع نہیں ہوسکتا ہے ، اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہو سکتا ، جبکہ عورت ایام ِعدت کے بعد اپنی مرضی سے کسی دوسری جگہ جہاں چاہے نکاح کر سکتی ہے۔
کمافی ردالمحتار: (قوله ثلاثة متفرقة) وكذا بكلمة واحدة بالأولى(الی قوله) وذهب جمهور الصحابة والتابعين ومن بعدهم من أئمة المسلمين إلى أنه يقع ثلاث.(3/233)-
وفی الھدایة: وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره اھ(1/473)-