امامت و جماعت

کرونا کا زیادہ مہلک نہ ہونے کی صورت میں نماز میں فاصلہ کرنا

فتوی نمبر :
42361
| تاریخ :
2020-10-21
عبادات / نماز / امامت و جماعت

کرونا کا زیادہ مہلک نہ ہونے کی صورت میں نماز میں فاصلہ کرنا

اب جبکہ کرونا نہ ہونے کے برابر ہے، زیادہ مہلک نہیں ہے، نمازوں میں فاصلہ رکھنا کیسا ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

موجودہ حالات میں اگر طبی ماہرین کرونا وائرس کی لہر میں کمی کی وجہ سے سوشل ڈسٹینس (سماجی فاصلہ) کو ضروری نہ سمجھتے ہوں، تو ایسی صورت میں نماز باجماعت کے دوران صفوں کے درمیان فاصلہ رکھنا بھی مکروہ ہوگا،جس سے احتراز لازم ہے، تاہم اگر طبی ماہرین دورانِ نماز صفوں میں فاصلہ کو اب بھی ضروری سمجھتے ہوں، تو ان کی ہدایت کے مطابق انسانی جانوں کے تحفظ کے لئے اب بھی فاصلہ رکھنا چاہیئے۔

مأخَذُ الفَتوی

ففی الفقه الحنفی وأدلته: عن البراء بن عازب، قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يأتينا إذا قمنا إلى الصلاة فيمسح عواتقنا وصدورنا وکان يقول: "لا تختلفوا فتختلف قلوبكم" وقال رسول اللہ ﷺ ’’لا تذروا فرجات للشیطان، ومن وصل صفا وصله اللہ ومن قطع صفا قطعه اللہ‘‘ (۱/ ۲۰۹)
وفی حاشية ابن عابدين: (قوله كقيامه في صف إلخ) هل الكراهة فيه تنزيهية أو تحريمية، ويرشد إلى الثاني قوله - صلى الله عليه وسلم - "ومن قطعه قطعه الله" اھ(1/ 570) واللہ أعلم بالصواب!

واللہ تعالی اعلم بالصواب
راجہ محمد عمیر حمایت عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 42361کی تصدیق کریں
0     481
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات