میرے شوہر نے فون میسج پر مجھے ایک طلاق دی، اور ایک ماہ بعد پھر فون میسج پر دوسری اور تیسری طلاق دی، مگر اس طلاق کا کوئی فرد گواہ موجود نہیں صرف میرے فون میں طلاق کے تین میسج ہیں ؟ پو چھنا یہ کہ کیا طلاق واقع ہوئی ؟
واضح ہو کہ طلاق واقع ہونے کے لیے گواہوں کے موجود ہوناشر عا کوئی لازم نہیں، لہذا سائلہ کا بیان اگر واقعہ درست اور مبنی بر حقیقت ہوا اس طور پر کہ سائلہ کے شوہر نے بذریعہ میسج ایک طلاق دینے کے ایک ماہ بعدعدت کے اندربقیہ دو طلاقیں بھی دی ہوں ، تو اس سے سائلہ پر تین طلاقیں واقع ہو کر حرمت مغلظہ ثابت ہو چکی ہے ، اب رجوع نہیں ہو سکتا، اور نہ ہی حلالہ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقد نکاح ہو سکتا ہے ، جبکہ عورت عدت گزارنے کے بعد کسی دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے۔
کما في الهندية :ولو قال لها انت طالق طالق اوانت طالق انت طالق او قال قد طلقتك قد طلقتك او قال انت طالق وقد طلقتك تقع ثنتان اذاكانت المرأة مدخولابها ( ج 1 ص (355)
كما في التتارخانية :في الظهيرية ومتى كرر لفظ الطلاق بحرف الواو أو بغير حرف الواو يتعدد وإن على بالثاني الأول لم يصدق في القضاء كقوله يا مطلقة أنت طالق .
وفي الحاوي: ولو قال ترا يك طلاق يك طلاق یك طلاق بغير العطف وهي مدخول بها تقع ثلاث تطليقات". (429/427/4)
وفي الهندية: وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحًا وبدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها.كذا في الهداية" (473/3 )