اگر کوئی امام نماز میں" اللہ اکبر" کی جگہ "اللہ اکبرش "کہتا ہے کسی مجبوری کی وجہ سے یا قصداً تو کیا اس کی نماز ہوگی یا نہیں ؟ براہ کرم تفصیل سے وضاحت فرمائیں
فقط و السلام
نماز کی تکبیر میں" اللہ اکبر "کے ساتھ "ش" کا اضافہ لغو ہے لیکن یہ مفسد نماز نہیں، البتہ قصداً اس کا اضافہ کرنا گناہ ہے اور اس کی وجہ سے نماز مکروہ ہوگی، البتہ عذر یا سبقتِ لسانی کی صورت میں نماز مکروہ نہیں ہوگی۔
ففی حاشية ابن عابدين: (قوله أو بزيادة حرف) قال في البزازية: ولو زاد حرفا لا يغير المعنى لا تفسد عندهما. وعن الثاني روايتان، كما لو قرأ و: انهى عن المنكر - بزيادة الياء، ويتعد حدوده يدخلهم نارا: وإن غير أفسد مثل: وزرابيب مكان - زرابي مبثوثة اھ (1/ 631)
وفی التاتارخانیة: إذا زاد حرفا هو ساقط، وأصل المشتق من الفعل واحد نحو أن یقرأ أرددوها علی مکان ردوها علی، ونحو أن یقرأ أنا رادوه إلیك لا یوجب فساد الصلاة اھ (۲/ ۹۳) واللہ أعلم بالصواب!