گزشتہ دنوں ہم میاں بیوی میں کافی حد تک لڑائی جھگڑا ہونے کیوجہ سے بات طلاق تک جاپہنچی، جس کی وجہ سے میں نے نہ جانےمیں ، غصہ میں ، ہم میاں بیوی نے لفظ سے نہیں، لیکن پیپر پردستخط کیے، جس پر طلاق نامہ لکھاتھا، لیکن نہ اس کو پڑھا ہم نے ، نہ ہم نے دل سے طلاق دی ہے، غصہ میں میری بیوی اپنے گھر چلی گئی تھی،تقریباً ایک مہینہ بعد ہم میاں بیوی میں معاہدہ ہوااور ہم دو بارہ ایک ہو گئے الحمد للہ، اب میرا مسئلہ یہ کہ نہ میں چاہتا ہوں ، نہ بیوی چاہتی ہے کہ علیحدگی ہو ، ہم اب صاف دل سےایک دوسرے کو بہت چاہتے ہیں ، اب میں اس پریشانی میں ہوں کہ شریعت کے مطابق طلاق ہوئی ہے یا نہیں ہوئی ہے ؟ اگرہوئی ہے تو ہمیں فتوی چاہئیے۔
سائل نے اس بات کے کی وضاحت نہیں کی کہ طلاق نامہ میں کتنی طلاقیں لکھی ہوئی تھیں تاکہ اس کےمطابق حکم ِشرعی سے آگاہ کیا جاتا،تاہم اگر مذکور طلاق نامہ میں تین طلاقیں لکھی ہوئی تھیں تو سائل نے جب اس طلاق نامہ پر دستخط کیے تو تینوں طلاقیں واقع ہو کر اس کی بیوی اس پر حرمت مغلظہ کے ساتھ حرام ہو گئی ، اب نہ رجوع ہو سکتا ہے اور نہ حلالۂ شرعیہ کے بغیر باہم عقدِنکاح ہو سکتا ہے ، جبکہ عورت ایامِ عدت گزار کر اپنی مرضی سےدوسری جگہ شادی کرنے میں بھی آزاد ہوگی۔
کمافی الدرالمختار: الكتابة على نوعين: مرسومة وغير مرسومة، ونعني بالمرسومة أن يكون مصدرا ومعنونا مثل ما يكتب إلى الغائب. وغير المرسومة أن لا يكون مصدرا ومعنونا، وهو على وجهين: مستبينة وغير مستبينة، فالمستبينة ما يكتب على الصحيفة والحائط والأرض على وجه يمكن فهمه وقراءته. وغير المستبينة ما يكتب على الهواء والماء وشيء لا يمكنه فهمه وقراءته. ففي غير المستبينة لا يقع الطلاق وإن نوى، وإن كانت مستبينة لكنها غير مرسومة إن نوى الطلاق وإلا لا، وإن كانت مرسومة يقع الطلاق نوى أو لم ينو ثم المرسومة لا تخلو إما أن أرسل الطلاق بأن كتب: أما بعد فأنت طالق، فكما كتب هذا يقع الطلاق وتلزمها العدة من وقت الكتابة.(3/246)ِ