میرا نام محمد ۔۔۔۔ہے اور میرا تعلق ضلع منڈی بہاؤ الدین سے ہے،میرا سوال یہ ہے کہ اگر پہلی طلاق کے چھ یا سات ماہ بعد دوسری طلاق دی ہو اور جس کے تین یا چار دن کے بعد خاندان اور میاں بیوی کی رضامندی اور صلح کے ساتھ دوبارہ نکاح ہوجائے تو اب پچھلی دو طلاقوں کا کیا حکم ہے؟ کیا تجدیدِ نکاح کی وجہ سے وہ دونوں طلاقیں باطل ہوجائےگی؟ اور پھر تجدید نکاح کے بعد والی طلاق کا کیا حکم ہوگا؟ یا اب وہ تیسری طلاق شمار ہوگی؟ جواب ارشاد فرمائیں۔جزاک اللہ خیرا۔
واضح ہوکہ شوہر کو شرعاً فقط تین طلاقیں دینے کا اختیار ہوتا ہے،لہذا اگر شوہر نے بیوی کو صریح الفاظ میں ایک طلاق دینے کے بعد عدت کے اندر رجوع کرلیا ہواور پھر اس کے چھ یا سات ماہ بعد صریح الفاظ میں دوسری طلاق دیدی ہو تو اس سے اس کی بیوی پر دوسری طلاق بھی واقع ہوجائےگی،جس کے بعد شوہر کو عدت کے اندر دوبارہ رجوع اور عدت گزرنے کے بعد باہمی رضامندی سے نئے حق مہر کے تقرر کے ساتھ تجدید نکاح کا اختیار حاصل ہوگا،اس تجدید نکاح سے سابقہ طلاقیں باطل نہ ہوگی،اس لیے اس رجوع یا تجدید نکاح کے بعد شوہر کے پاس فقط ایک طلاق کا اختیار ہوگا،لہذا اس کے بعد اگر وہ کسی موقع پر تیسری طلاق بھی دیدے،تو اس سے اس کی بیوی پر تیسری طلاق بھی واقع ہوجائیگی،چنانچہ مجموعی طور پر تین طلاقیں واقع ہوکر حرمتِ مغلظہ ثابت ہوجائیگی،جس کے بعد نہ رجوع ہوسکتا ہے اور نہ ہی بغیر حلالہ شرعیہ کے دوبارہ باہم عقد نکاح ہوسکتا ہے،اس لیے آئندہ شوہر کو طلاق کے معاملے میں احتیاط لازم ہے۔
قال اللہ تعالیٰ: {الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ وَلَا يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَأْخُذُوا مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ شَيْئًا إِلَّا أَنْ يَخَافَا أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيمَا افْتَدَتْ بِهِ تِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ فَلَا تَعْتَدُوهَا وَمَنْ يَتَعَدَّ حُدُودَ اللَّهِ فَأُولَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ (229) فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ} [البقرة: 229، 230]۔
وفی الفتاوى الهندية: وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية(1/ 473)۔