امامت و جماعت

بے تکلفانہ مذاق کرنے والے دوستوں کےلئے آپس میں جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کا حکم

فتوی نمبر :
42937
| تاریخ :
0000-00-00
عبادات / نماز / امامت و جماعت

بے تکلفانہ مذاق کرنے والے دوستوں کےلئے آپس میں جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کا حکم

مفتی صاحب! ہم پانچ دوست ایک ساتھ ایک کمپنی میں کام کرتے ہیں، اور ماشاء اللہ سب نمازی حضرات ہیں، اور ہم ایک دوسرے سے بہت مزاق کرتے ہیں حد سے بڑھ کر، یہاں تک کہ گالی وغیرہ بھی دیدتے ہیں، سوال میرا یہ ہے کہ کیا ہم لوگ آپس میں جماعت کے ساتھ نماز پڑھ سکتے ہیں، کوئی ایک ان میں امام بن جائے، کیا ہماری نماز ہو جائےگی یا انفرادی نماز پڑھنی پڑھےگی؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ جماعت سے نماز پڑھنا سنتِ مؤکدہ ہے، جو کہ قریب بالواجب ہے، لہٰذا صورتِ مسئولہ میں اگر کمپنی میں مسجد موجودنہ ہو یا قرب وجوار میں کوئی مسجد نہ ہو تو انفرادی نماز پرھنے سے بہتر ہے کہ کسی ایک دوست (جس کو کچھ نہ کچھ نماز کے احکام معلوم ہوں اور قرأت مسنونہ پر قدرت بھی رکھتا ہو) کو امام بنا کر اس کی اقتداء میں نماز ادا کی جائے، تاہم ہنسی مذاق کے دوران ایک دوسرے کو گالیاں دینے اور نازیبا الفاظ استعمال کرنے سے اجتناب کرنا چاہیے۔

مأخَذُ الفَتوی

ففی سنن الترمذي: عن ابن عمر، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: صلاة الجماعة تفضل على صلاة الرجل وحده، بسبع وعشرين درجة. (1/ 291)
وفی الدر المختار: (والجماعة سنة مؤكدة للرجال) (إلی قوله) (وقيل واجبة وعليه العامة) أي عامة مشايخنا (إلی قوله) قال في البحر: وهو الراجح عند أهل المذهب (فتسن أو تجب) ثمرته تظهر في الإثم بتركها مرة (على الرجال العقلاء البالغين الأحرار القادرين على الصلاة بالجماعة من غير حرج) (1/ 554)
وفیه أیضاً: (والأحق بالإمامة) تقديما بل نصبا مجمع الأنهر (الأعلم بأحكام الصلاة) فقط صحة وفسادا بشرط اجتنابه للفواحش الظاهرة اھ (1/ 557) واللہ أعلم بالصواب!

واللہ تعالی اعلم بالصواب
احسان الرحمان حبیب عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 42937کی تصدیق کریں
0     803
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات