میری بیوی نے چچا کے گھر جانے کا کہا میں نے اجازت نہیں دی،بعد میں میں نے اجازت دے دی،اس نے کہا کہ اب میں نہیں جاؤں گی،میں نے غصے میں کہا کہ جاؤ ورنہ میں طلاق دونگا اسی وقت اسی جگہ میری امی بیٹھی ہوئی تھی،میں نے اس سے کہا کہ میرے لیے دوسری شادی کرواؤ،مجھے یہ نہیں چاہیے،اس کے بعد بیوی نے کہا کہ آپ پھر اس بات پر مجھے طلاق دے دوگے؟ میں نے کہا کہ جی ہاں لیکن میرے کسی بات یا کسی لفظ سے طلاق دینے کا ارادہ نہیں تھا۔
سوال میں مذکور الفاظ سے سائل کی بیوی پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی،دونوں کا نکاح حسبِ سابق برقرار ہے اور دونوں میاں بیوی کی طرح زندگی گزارسکتے ہیں،مگر معمولی معمولی باتوں پر بیوی کو طلاق کی دھمکی دینا بھی دانشمندی کے خلاف ہے،جس سے آئندہ احتراز کرنا چاہیے۔
کمافی الفتاوى الهندية: طلاق ميكنم طلاق ميكنم وكرر ثلاثا طلقت ثلاثا بخلاف قوله كنم لأنه استقبال فلم يكن تحقيقا بالتشكيك. في المحيط لو قال بالعربية أطلق لا يكون طلاقا إلا إذا غلب استعماله للحال فيكون طلاقا(1/ 384)۔