امامت و جماعت

کیا میاں بیوی گھر میں باجماعت نماز ادا کرسکتے ہیں؟

فتوی نمبر :
43093
| تاریخ :
0000-00-00
عبادات / نماز / امامت و جماعت

کیا میاں بیوی گھر میں باجماعت نماز ادا کرسکتے ہیں؟

اسلام علیکم..
اگر جماعت نکل جائے اور گھر میں صرف بیوی ہو تو کیا بیوی کے ساتھ جماعت کر کے نماز ادا کی جا سکتی ہے؟ برائے مہربانی رہنمائی فرمائیں اور اس حوالے سے شرعی احکامات سے مستفید فرمائیں... جزاک اللہ خیر

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

جی ہاں! اگر کبھی اتفاقاً مسجد کی جماعت نکل جائے تو شوہر گھر میں بیوی کے ساتھ نمازِ باجماعت ادا کر سکتا ہے، اس سے جماعت کا ثواب تو حاصل ہوجائےگا، مگر مسجد کا ثواب حاصل نہ ہوگا،(تاہم ایسی صورت میں بیوی کو اپنے دائیں طرف کھڑا کردینے کے بجائے اپنے پیچھے کھڑا کردینا ضروری ہوگا)

مأخَذُ الفَتوی

ففی المعجم الأوسط: عن عبد الرحمن بن أبي بكرة، عن أبيه: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم «أقبل من نواحي المدينة يريد الصلاة، فوجد الناس قد صلوا، فمال إلى منزله، فجمع أهله، فصلى بهم» اھ (5/ 35)
وفی حاشية ابن عابدين: (قوله في مسجد أو غيره) قال في القنية: واختلف العلماء في إقامتها في البيت والأصح أنها كإقامتها في المسجد إلا في الأفضلية. اهـ. (1/ 554) واللہ أعلم بالصواب!

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 43093کی تصدیق کریں
0     844
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات