امامت و جماعت

بے وضو پڑھائی گئیں نمازوں کا حکم

فتوی نمبر :
43179
| تاریخ :
0000-00-00
عبادات / نماز / امامت و جماعت

بے وضو پڑھائی گئیں نمازوں کا حکم

ایک شخص نے آج سے بارہ سال پہلے پندرہ ماہ امامت کی تھی ، اس دوران کی نمازیں اس شخص نے وضو ساقط ہونے کے بعد بھی ویسے ہی ادا کیں، اب اس کو احساس ہوا کہ میں نے بہت بڑی غلطی کی ، اس غلطی کی تلافی کیسے کی جائے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

مذکور شخص کا وضو ٹوٹنے کے باوجود نماز کو جاری رکھنا بہت بڑا گناہ پر مبنی عمل تھا ، جس کی وجہ سے وہ سخت گناہ گار ہوا ہے ، جس پر اسے بصدقِ دل توبہ و استغفار اور آئندہ کے لئے اس عمل سے مکمل اجتناب لازم ہے ، جبکہ سائل نے اس طرح جتنی نمازیں بے وضو پڑھائی ہیں ، غالبِ گمان کے مطابق اس کا اندازہ لگا کر ان نمازوں کا اعادہ کرے اور اگر متعلقہ جگہ پر مقتدیوں کو اطلاع کرنا ممکن ہو تو ان کو بھی کسی مناسب طریقے سے اطلاع کرکے ان نمازوں کے فاسد ہونے کی خبر دے ، تاکہ وہ بھی ان نمازوں کا اعادہ کرسکیں۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدر المختار : (قوله: غير مكفر) أشار به إلى الرد على بعض المشايخ، حيث قال المختار أنه يكفر بالصلاة بغير طهارة لا بالصلاة بالثوب النجس وإلى غير القبلة لجواز الأخيرتين حالة العذر بخلاف الأولى فإنه لا يؤتى بها بحال فيكفر. قال الصدر الشهيد: وبه نأخذ ذكره في الخلاصة والذخيرة، وبحث فيه في الحلية بوجهين: أحدهما ما أشار إليه الشارح. ثانيهما أن الجواز بعذر لا يؤثر في عدم الإكفار بلا عذر؛ لأن الموجب للإكفار في هذه المسائل هو الاستهانة، فحيث ثبتت الاستهانة في الكل تساوى الكل في الإكفار، وحيث انتفت منها تساوت في عدمه، وذلك لأنه ليس حكم الفرض لزوم الكفر بتركه، وإلا كان كل تارك لفرض كافرا، وإنما حكمه لزوم الكفر بجحده بلا شبهة دارئة اهـ ملخصا: أي والاستخفاف في حكم الجحود (قوله: كما في الخانية) حيث قال بعد ذكره الخلاف في مسألة الصلاة بلا طهارة وأن الإكفار رواية النوادر. وفي ظاهر الرواية لا يكون كفرا، وإنما اختلفوا إذا صلى لا على وجه الاستخفاف بالدين، فإن كان وجه الاستخفاف ينبغي أن يكون كفرا عند الكل اهـ (1/81)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 43179کی تصدیق کریں
0     789
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات