میاں بیوی کے درمیان ایک طلاق بائن واقع ہو گئی ہے اب وہ تجدید نکاح کرنا چاہتے ہیں, تجدید نکاح کا طریقہ بیان کردیں ۔
میاں بیوی کے درمیان ایک طلاق بائن واقع ہو جانے کے بعد تجدید نکاح کا طریقہ یہ ہے کہ خود میاں بیوی یا ان کی طرف سے مقررہ کرده وکیل کم از کم دو بالغ عا قل مردوں یا ایک مرد اور دو عورتوں کی موجودگی میں نئے مہر کے تقرر کے ساتھ ایجاب و قبول کے الفاظ ادا کریں، چنانچہ اس طرح کرنے سے دونوں کا نکاح منعقد ہو جائے گا، تاہم اس تجدید نکاح کے بعد آئندہ کے لئے شوہر کے پاس فقط دو طلاقوں کا اختیار ہو گا۔ اس لئے آئندہ طلاق کے معاملے میں احتیاط کی ضرورت ہے۔
كما في الهداية :وإذا كان الطلاق بائنا دون الثلاث فله أن يتزوجها في العدة وبعدانقضائها " لأن حل المحلية باق لأن زواله معلق بالطلقة الثالثة فينعدم قبله ومنع الغير في العدة لاشتباه النسب ولا اشتباه في إطلاقه " وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة أو ثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها " والأصل فيه أھ(257/2)۔
وفي بدائع الصنائع : فإن كانا حرين فالحكم الأصلي لما دون الثلاث من الواحدة البائنة، والثنتين البائنتين هو نقصان عدد الطلاق وزوال الملك أيضا حتى لا يحل له وطؤها إلا بنكاح جديد ولا يصح ظهاره، وإیلاؤه ولا يجري اللعان بينهما ولا يجري التوارث ولا يحرم حرمة غليظة حتى يجوز له نكاحها من غير أن تتزوج بزوج آخر لأن ما دون الثلاثة - وإن كان بائنا - فإنه يوجب زوال الملك لا زوال حل المحلية اھ( 187/)
وفي الدر المختار : وينكح مبانته بما دون الثلاث في العدة وبعدها بالإجماع) ومنع غيره فيه الاشتباه النسب (لا) ينكح (مطلقة) من نكاح صحيح نافذ اه (3/4009)۔