میرے شوہر نے رات میں کہا کہ" صبح تم کو طلاق نامہ بھجوا دونگا"، لیکن صبح انہوں نے کچھ نہیں بھیجا ،نہ ہی کچھ کہا ، تب کیاایسے میں طلاق ہو جاتی ہے کہ نہیں ؟
سائلہ کا بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو ، اس طور پر کہ اس کے شوہر نے " صبح تم کو طلاق نامہ بھجوا دونگا "کے الفاظ ہی کہے ہوں، پھر اس نے صبح بھی طلاق نہ دی ہو، تو چونکہ مذکور الفاظ محض طلاق کی دھمکی ہے، لہذا اس سے شرعاً کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی، دونوں حسب سابق میاں بیوی کی طرح رہ سکتے ہیں۔
کمافي الهندية: قالت لزوجها من باتو نمیباشم فقال الزوج مباش فقالت طلاق بدست تو است مرا طلاق كن فقال الزوج طلاق میکنم طلاق میکنم وكرر ثلاثا طلقت ثلاثا بخلاف قوله کنم لأنه استقبال فلم يكن تحقيقا بالتشكيك في المحيط لو قال بالعربية أطلق لا يكون طلاقا إلا إذا غلب استعماله للحال فيكون طلاقا اھ(384/1)