میرا سوال آپ سے یہ ہے کہ ایک لڑکی جس کا نکاح ہو گیاہے اور رخصتی نہیں ہوئی تھی لیکن ایک دفعہ شوہر سے تنہائی میں مل چکی ہے , اس نے کسی ذہنی دباؤ کی وجہ سے اپنے شوہر سے غلط بیانی کر کے طلاق مانگی جبکہ شوہر طلاق نہیں دینا چاہتا تھا لیکن اس نے اس جھوٹ کی وجہ سے کال پر طلاق دیدی تو کیا طلاق ہو جائے گی؟
تنقیح : خلوت صحیحہ ہو چکی ہے اور الفاظ طلاق یہ تھے کہ میں طلاق دیتا ہوں، میں طلاق دیتا ہوں، میں طلاق دیتا ہوں۔
واضح ہو کہ فون پر طلاق دینے سے بھی شرعاً طلاق واقع ہو جاتی ہے ، لہذا صورتِ مسئولہ میں جب شوہر نے اپنی بیوی کو فون پرتین دفعہ” میں طلاق دیتا ہوں“ کہہ دیا ہے تو اس سے اس کی بیوی پر تین طلاقیں واقع ہو کر حرمتِ مغلظہ ثابت ہو چکی ہے، اب رجوع نہیں ہو سکتا، اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہو سکتا ، جبکہ عورت ایامِ عدت کے بعد اپنی مرضی سے کسی دوسری جگہ عقدِ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے۔
كما في الدر المختار: (ويقع طلاق كل بالغ عاقل) ولو تقديرا بدائع , ليدخل السكران ( ولو عبداً او مكرہاً) فان طلاقه صحيح لا اقراره بالطلاق اھ (ج ۳ ص ۲۳۵)
و في التاتارخانية : و اما البدعى فنوعان: (الى قوله )فالذى يعود الى العدد ان يطلقها ثلاثاً في طهر واحد بكلمة واحدة او بكلمات متفرقة ، (الى قوله) فاذا فعل ذلك وقع الطلاق وكان عاصياً - اهـ (٢٣٦/٣)-
وفي الہداية : وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة أو ثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها " والأصل فيه قوله تعالى: {فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجاً غَيْرَهُ} [البقرة: 230] فالمراد الطلقة الثالثة(2/258)۔