ابوکو کہا کہ ابو! آپ حق مہر زیادہ لکھوانے سے منع نہیں کریں گے، اس لئے پھر آپ ہی حق مہر دینا، کیا اس طرح کہنے سے نکاح ٹوٹ جاتا ہے؟ یا پھر باپ کو نکاح ختم کرنے کا حق مل جاتا ہے؟ کیونکہ مہر باپ نے ادا کیا ہے، شرعی ر ہنمائی کریں، کیا نکاح کے بعد یہ بات شوہر اپنے باپ سے کرے کہ آپ نے ميری شادی اپنی مرضی سے کی ہے،حق مہر بھی آپ ادا کرو تو کیا اگر باپ اس بات کو تسلیم کرلے تو باپ کو طلاق کا اختیار مل جاتا ہے؟
صورتِ مسئولہ میں سوال میں مذکور جملے ” آپ حق مہر زیادہ لکھوانے سے منع نہیں کریں گے اس لئے پھر آپ ہی حق مہر دینا“ اور ” آپ نے میری شادی اپنی مرضی سے کی ہے ،حق مہر بھی آپ ادا کرو“ کہنے سے نہ میاں بیوی کے نکاح پر کوئی اثر پڑا، اور نہ ہی اس کی وجہ سے طلاق دینے کا اختیار والد کی طرف منتقل ہوا، اس لئے اس کی وجہ سے پریشان نہ ہونا چاہیئے ، تاہم آئندہ کے لئے مذکور نوعیت کے جملے کہنے سے احتراز کرنا چاہیئے ۔
کما في الدر المختار: باب تفويض الطلاق لما ذكر ما يوقعه بنفسه بنوعيه ذكر ما يوقعه غيره بإذنه۔اھ (وفي رد المحتار: تحت) [باب تفويض الطلاق] أي تفويضه للزوجة أو غيرها صريحا كان التفويض أو كناية، يقال: فوض له الأمر: أي رده إليه حموي، فالكناية قوله اختاري أو أمرك بيدك، والصريح قوله طلقي نفسك۔اھ (3/314)