مفتی صاحب ! میرا سوال ہے کہ میں نے ساس کے ساتھ ہاتھ ملایا، جب باہر نکلا تو شیطان نے شہوت پر بہت زور دیا، لیکن نیت نہیں تھی کسی قسم کی شہوت کی، ذرا رہنمائی کیجئے۔
صورت مسئولہ میں سائل کو اپنی ساس سے ہاتھ ملاتے وقت اگر شہوت نہ ہوئی ہو بلکہ ہاتھ ملا لینے کے بعد ہوئی ہو تو اس کی وجہ سے حرمتِ مصاہرت ثابت نہیں ہوئی ہے، تاہم جب سائل کو اپنی ساس سے ہاتھ ملانے سے شہوت کا خطرہ ہو تو آئندہ کے لئے بغیر کسی حائل ہاتھ ملانے سے احتراز لازم ہے۔
کما في الدر المختار: والعبرة للشهوة عند المس والنظر لا بعدهما وحدها فيهما تحرك آلته أو زيادته به يفتى اھ. (وفی رد المحتار: تحت) (قوله: به يفتى) وقيل حدها أن يشتهي بقلبه إن لم يكن مشتهيا أو يزداد إن كان مشتهيا، ولا يشترط تحرك الآلة وصححه في المحيط والتحفة وفي غاية البيان وعليه الاعتماد والمذهب الأول بحر۔اھ (3/33)
وفي الفتاوىٰ الهندية: والشهوة تعتبر عند المس والنظر حتى لو وجدا بغير شهوة ثم اشتهى بعد الترك لا تتعلق به الحرمة. وحد الشهوة في الرجل أن تنتشر آلته أو تزداد انتشارا إن كانت منتشرة، كذا في التبيين. وهو الصحيح۔اھ (1/275)