میرے بچے نے میری بيوی کی غفلت کی وجہ سے میڈیسن کی بہت زیادہ خوراک کھالی میں نے غصے میں اس کو کہا" میری طرف سے تو فارغ ہے " ایسا میں نے طلاق کی نیت سے بالکل بھی نہیں کہا، بلکہ کہنے کا مطلب تھا کہ میں تم سے بات نہیں کرنا چاہتا اور بچوں کوتمہاری ذمہ نہیں چھوڑ سکتا کیا ان الفاظ اور اس نیت سے طلاق واقع ہو جائے گی ۔
واضح ہو کہ” فارغ ہو“ کا لفظ عرف میں عند القرینہ صریح بائن طلاق کے لیے مستعمل ہے، جس سے بغیر کسی نیت طلاق واقع ہوجاتی ہے، لہذا صورت مسئولہ میں جب سائل نے اپنی بیوی کو غصہ کی حالت میں سوال میں مذکور الفاظ "میری طرف سے تو فارغ ہے " کہہ دیئے تو اس کی وجہ سے سائل کی بیوی پر ایک طلاق بائن واقع ہو کر نکاح ختم ہو چکا ہے ، اب با قاعدہ گواہوں کی موجودگی میں نئے حق مہر کے تقرر کے ساتھ نکاح کئے بغیر رجوع نہیں ہو سکتا، جبکہ تجدید نکاح کے بعد آئندہ شوہر کو صرف دو طلاقیں دینے کا اختیار ہو گا، اس لیے آئندہ طلاق کے معاملہ میں احتیاط کی ضرورت ہے۔
کما في الدر المختار: ونحو اعتدي واستبرئي رحمك، أنت واحدة، أنت حرة، اختاري أمرك بيدك سرحتك، فارقتك لا يحتمل السب والرد (الى قوله) (وفي الغضب) توقف (الأولان) إن نوى وقع وإلا لا اھ(3/300)۔
وفي رد المحتار : تحت (قوله سرحتك) من السراح بفتح السين: وهو الإرسال أي أرسلتك لأني طلقتك أو لحاجة لي، وكذا فارقتك لأني طلقتك أو في هذا المنزل نهر (قوله لا يحتمل السب والرد) أي بل معناه الجواب فقط ح أي جواب طلب الطلاق اھ (3/300)۔