السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ !
مجھے بیع کے بارے میں مسئلہ جاننا تھا کہ میں نے اپنے باس (employer) سے ان کی اپنی پرانی کار خریدی ،اور ڈالر قیمت طےپائی، اور قیمت ہر ہفتے وار ڈالر قسطوں میں طےپائی ، ابھی آدھی قسطیں ہی ادا کی تھیں کہ گاڑی کے انجن میں ٹائمنگ بلٹ ٹوٹ گئی ، اس کی مرمت آسٹریلیا میں بہت مہنگی تھی ،لیکن میرے باس نے اپنے کسی جاننے والے سے انتہائی سستے میں بنوادی، مجھے اس کی مرمت میں کافی بچت ہوگئی ، لیکن پھر بھی میں نے اپنے باس سے شکایت کی کہ ابھی تو آپ سے کار لی تھی، اور ٹائمنگ بلٹ تو کم از کم کلو میٹر کے بعدتبدیل کاروانی ہوتی ہے ، مجھے آپ کار کی قیمت میں discount رعایت دیں، مجھے اب وہم ہو رہا ہے کہ وہ میرے پریشر میں مجھے ڈالر معاف کر دے ، مجھے یہ جاننا ہے کہ کہیں یہ ڈسکاؤنٹ مانگنا سود میں تو نہیں آتا ؟ کیوں کہ بیع تو ہم نے پہلے ہی طے کر لی تھی اور میں نے ڈسکاؤنٹ اس وقت مانگا جب گاڑی خراب ہوئی ؟ اور خراب بھی تقریباً تین چار ہفتے گزرنے کے بعد ہوئی اس کے بعد بعد ڈسکاونٹ مانگا، یعنی تقریباً آدھی قسطیں دینے کے بعد ، اس بیع کے بارے آپ کی کیارائے ہے ؟ واضح رہے کہ بیع کے وقت نہ میں نے گاڑی کے عیب پوچھے نہ انہوں نے بتایا ؟
سائل اور اس کے مالک کے درمیان جب ایک دفعہ گاڑی کی خرید و فروخت کا معاملہ طے پایا، تو اس کے بعد گاڑی میں کوئی عیب پیدا ہونے کیوجہ سے سائل کیلئے اپنے مالک سے قیمت میں کمی کے مطالبے کا حق نہ تھا، اور نہ ہی اس کے ذمہ قیمت میں رعایت لازم تھی، تاہم جب وہ اپنی مرضی سے قیمت میں کمی کر دے ، تو شرعاً اس میں کوئی حرج نہیں۔
كما في البحر الرائق: دل كلامه أنه ليس له إمساكه وأخذ النقصان لأنہ لا يقابلها شيء من الثمن في مجرد العقد ولأنه لم يرض بزواله عن ملكه بأقل من المسمى فيتضرر به ودفع الضرر عن المشتري ممكن بالرد بدون تضرره أطلقه فشمل ما إذا كان به عند البيع أو حدث بعده في يد البائع وما إذا كان فاحشا أو يسيرا كذا في السراج الوهاج (۶/٣٩) -
وفى درر الحكام شرح مجلة الأحكام: صاحب خيار العيب له قبول المبيع بثمنه المسمى كله وليس له إمساكه ونقص الثمن بما يقابل العيب إلا إذا رضي البائع أو كان ثمة مانع من الرد لأنه ليس للأوصاف حصة من الثمن (۱/۲۸۳) -
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1