شوہر نے کورٹ سے نوٹس بھیجا اپنی بیوی کو اور اس میں لکھا ہے کہ میں نے لڑائی کی وجہ سے اپنی بیوی کو بلآخر طلاق طلاق طلاق کہدیا جبکہ مجلسِ نزاع میں اس نے طلاق نہیں دی تھی , اب سوال یہ ہے کہ اگر اس نے طلاق نہیں بھی دی ہو تو کیا نوٹس میں جو اقرارِطلاق کیا ہے اس سے نورعین پر طلاق پر ہوجائیگی، یانہیں ؟
واضح ہو کہ طلاق کے جھوٹے اقرار سے بھی قضاءْ طلاق واقع ہو جاتی ہے، لہذا صورتِ مسئولہ میں شوہر نے اگرچہ مجلسِ نزاع میں طلاق نہ دی ہو لیکن نوٹس میں طلاق طلاق طلاق لکھنے سے اسکی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہو کر حرمتِ مغلظہ ثابت ہو چکی ہے ، اب رجوع نہیں ہو سکتا، اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہو سکتا، جبکہ عورت ایّامِ عدت کے بعد اپنی مرضی سے کسی دوسری جگہ عقدِ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے۔
اور حلالہ شرعیہ یہ ہے کہ عورت ایام عدت کے بعد بغیر کسی شرط کے کسی دوسرے شخص سے اپنا عقد نکاح کرے، ایسا کرنے سے وہ دوسرے شخص کی بیوی بن جائیگی، اب اگر وہ دوسرا بھی اس سے ایک مرتبہ کی ہمبستری (جو کہ حلالہ شرعی کے تحقیق کیلئے ضروری ہے) کے فوراً بعد یا ازدواجی زندگی کے کچھ عرصہ بعد طلاق دیدے یا طلاق تو نہ دے مگر اسکا پہلے انتقال ہو جائے، تو بہرصورت اسکی عدت گزارنے کے بعد اگر وہ پہلے شوہر کے عقد نکاح میں آنا چاہے اور پہلا شوہر بھی اسے رکھنے پر رضا مند ہو تو نئے حق مہر کیساتھ گواہوں کی موجودگی میں دوبارہ با عقد نکاح کر کے باہم میاں بیوی کی حیثیت سےزندگی بسر کر سکتے ہیں۔
کمافی الدرالمختار: (ويقع طلاق كل زوج بالغ عاقل) ۔۔۔(ولو عبدا أو مكرها) ۔۔۔(أو هازلا) لا يقصد حقيقة كلامه اھ (3/235)۔
وفی ردالمحتار: (قوله أو هازلا) أي فيقع قضاء وديانة كما يذكره الشارح، وبه صرح في الخلاصة معللا بأنه مكابر باللفظ فيستحق التغليظ، وكذا في البزازية. وأما ما في إكراه الخانية: لو أكره على أن يقر بالطلاق فأقر لا يقع، كما لو أقر بالطلاق هازلا أو كاذبا فقال في البحر، وإن مراده لعدم الوقوع في المشبه به عدمه ديانة، ثم نقل عن البزازية والقنية لو أراد به الخبر عن الماضي كذبا لا يقع ديانة، وإن أشهد قبل ذلك لا يقع قضاء أيضا. اهـ. ويمكن حمل ما في الخانية على ما إذا أشهد أنه يقر بالطلاق هازلا ثم لا يخفى أن ما مر عن الخلاصة إنما هو فيما لو أنشأ الطلاق هازلا. اھ(3/238)۔
وفی خلاصہ الفتاوی:وفی الاصل اذا قال طلقتک امس وھو کاذب کان طلاقاًفی القضاء۔(2/75)
وفي الهداية : وإذا كان الطلاق بائنا دون الثلاث فله أن يتزوجها في العدة وبعد انقضائها " لأن حل المحلية باق لأن زواله معلق بالطلقة الثالثة فينعدم قبله ومنع الغير في العدة لاشتباه النسب ولا اشتباه في إطلاقه " وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة أو ثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها " والأصل فيه قوله تعالى: {فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجاً غَيْرَهُ} [البقرة: 230] فالمراد الطلقة الثالثة اهـ (ج 2 / ص (409)