میں ممتاز عالم رضوی ميري بيٹی نور عين رضوی کا عقدِ مامون الرشيد ولد محمد یسین مرحوم سے 12/2/2016 کو ہوا لیکن مامون الرشيد ولد محمد یسین مرحوم نے اپنی ازدواجی زندگی کوتلخ آمیز کر دیا اور دار القضاء امارتِ شرعیہ خانقاہ رحمانی مونگیر سے رجوع ہونے کے بعد فیملی کورٹ مونگیر سے اپنی اہلیہ نورعین رضوی کو نوٹس بھیجا جس کے جواب میں ہم نے مقدمہ کو حیدر آباد منتقل کرنے کی درخواست کی , اس پر مامون الرشید ولد محمد یسین مرحوم نے پھر فیملی کورٹ مونگیر سے ایک نوٹس بھیجا جس کے پیرا گراف 13 میں انہوں نے کہا ہے کہ لڑکی اور اس کے والدین مونگیر بتاریخ 1 مارچ 2019 کو آئے اور لڑکا اور اس کے والدین کو گالیاں دیں , آخر کار لڑکےنے نور عین رضوی کو تین مرتبہ طلاق طلاق طلاق کہدیا , یہ سراسر غلط ہے نہ ہم مونگیر تاریخِ مذکور پر گئے اور نہ نزاع کی کیفیت پیدا ہوئی اور نہ لڑکےنے ہمارے سامنے طلاق طلاق طلاق کہا، ان تمام باتوں میں مامون الرشید جھوٹا ہے ہاں فیملی کورٹ سے 4 جولائی 2019 کو جو نوٹس بھیجا ہے اس میں انہوں نے کہا ہے کہ میں نے نور عین رضوی کوطلاق طلاق طلاق کہد یا، اب آپ مفتیانِ کرام سے جواب طلب ہے کہ لڑکےنے جو نوٹس میں طلاق دینے کا اقرار کیا ہے جبکہ میرے سامنے اس نے طلاق نہیں دیا ہے کیا ان تمام تفصیلات کی روشنی میں نور عین رضوی پر طلاق واقع ہوئی یا نہیں ؟ کیا دوسرے مرد سے وہ شادی کر سکتی ہے ۔
واضح ہو کہ مسمیٰ ممتاز عالم رضوی نے سوال کے ساتھ کوئی نوٹس نہیں بھیجا ہے ، جس کو دیکھ کر اس کے مطابق کوئی حکم لگایا جا سکتا، البتہ اگر اس کے داماد مسمیٰ مامون الرشید نے مسماۃ ممتاز کی بیٹی نور عین کو تین طلاقیں لکھ کر دیدی تھیں، اگرچہ ایسا اس نے مسمٰی ممتاز کے سامنے نہیں کیا تھا، لیکن وہ طلاقیں نوٹس میں موجود ہیں تو اس سے مسماۃ ممتاز کی بیٹی نور عین پر تین طلاقیں واقع ہوکر حرمتِ مغلظہ ثابت ہو چکی ہے ، اب رجوع نہیں ہو سکتا، اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہو سکتا، جبکہ عورت ایامِ عدت گزارنے کے بعد اپنی مرضی سے کسی دوسری جگہ شادی کرنے میں بھی آزاد ہے۔
وفي ردالمحتار: تحت(قوله ثلاثة متفرقة) وكذا بكلمة واحدة بالأولى، وذهب جمهور الصحابة والتابعين ومن بعدهم من أئمة المسلمين إلى أنه يقع ثلاث. اھ (3/233)۔
وفی الھدایة: وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة أو ثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها " اھ(2/257)۔