میری بیو ی سے کال پر بات ہوئی تو میں نے اسے کہا کہ کل شام کوگھر آنا ورنہ میں تمہیں فارغ کردوں گا ،یہ نہیں لکھا کہ طلاق دوں گا یا دی ہے ،قرآن و حدیث کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں ۔
میں مذکور الفاظ "کل شام کو گھر آنا ورنہ میں تمہیں فارغ کرونگا"سے سائل کی بیوی پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی ،تا ہم آئندہ کے لئے اس قسم کے الفاظ استعمال کرنے سے اجتناب کیا جائے ۔
کما فی الدر المختار:بخلاف قوله طلقي نفسك فقالت أنا طالق أو أنا أطلق نفسي لم يقع لأنه وعد جوهرة اھ (3/319)۔
وفی البحرالرائق:ولیس منه ای الصریح اطلقک بصیغة المضارع الا اذا غلب استعماله فی الحال اھ (3/252)۔
وایضاً فی البحرالرائق:لانه لو قال طلقی نفسک فقالت انا اطلق لایقع اھ (3/314)۔واللہ اعلم بالصواب