السلام علیکم !
جناب اعلٰی مفتی صاحبان سوال یہ ہے کہ میری بیوی سے لڑائی ہوئی , میں نے میسج میں اسے بولا کہ تم میری طرف سے آزاد ہو , میرا اب کوئی تعلق نہیں ہے ،میری طرف سے فارغ ہو , تمہیں کاغذات اور حق مہر مل جائے گا تم اپنے میکے چلی جاؤ ،اس نے جب میرے گھر والوں کو بتا یا ،تو گھر والوں کے پوچھنے پر بھی میں نے کہا کہ ہاں ! میں نے مسئلہ ختم کردیا ہے ،اور کاغذات بھی ارسال کردیے ہیں ،جبکہ میں نے کوئی کاغذ نہیں بھیجا اور نہ ہی لفظِ طلاق استعمال کیا , اب رجوع کی کوئی گنجائش باقی ہے کہ نہیں ؟ میں قطر میں ہوں اور وہ پاکستان میں ہے , اگر رجوع کی کوئی گنجائش ہو تو ہمارا ساتھ ہونا اور ازدواجی تعلق قائم کرنا ضروری ہے ؟
سوال میں ذکر کردہ تفصیل کے مطابق سائل کی بیوی پر دو طلاق بائن واقع ہو کر نکاح ختم ہوچکا ہے ، اب بغیر تجدیدِ نکاح کے ایک ساتھ رہنا شرعاً جائز نہیں ہے، ورنہ دونوں سخت گناہ گار ہونگے، جبکہ عورت ایامِ عدت گزارنے کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہے ، تاہم اگر دونوں باہمی رضا مندی سے دوبارہ ایک ساتھ رہنا چاہتے ہوں تو دو گواہوں کی موجودگی میں نئے حق مہر کے تقرر کے ساتھہ باقاعدہ ایجاب و قبول کر کے نکاح کرنالازم ہو گا، چنانچہ تجدیدِ نکاح کی صورت میں سائل کو آئندہ فقط ایک طلاق کا اختیار ہو گا اس لئے آئندہ طلاق کے معاملے میں احتیاط سے کام لینا لازم ہے۔
کما في الفتاوى الهندیة: ثم المرسومة لا تخلو اما إن أرسل الطلاق بأن كتب أما بعد فأنت طالق فكلما كتب هذا يقع الطلاق وتلزمها العدة من وقت الكتابة.(1/378)۔
وفي رد المحتار: فإذا قال " رها كردم " أي سرحتك يقع به الرجعي مع أن أصله كناية أيضا، وما ذاك إلا لأنه غلب في عرف الفرس استعماله في الطلاق (3/299)۔
وفي التنوير : الصريح يلحق الصريح والبائن، والبائن يلحق الصريح لا البائن اھ
وفی الشامیة:تحت قوله( لا يلحق البائن البائن) المراد بالبائن الذي لا يلحق هو ما كان بلفظ الكناية لأنه هو الذي ليس ظاهرا في إنشاء الطلاق كذا في الفتح ، وقيد بقوله الذي لا يلحق إشارة إلى أن البائن الموقع أولا أعم من كونه بلفظ الكناية أو بلفظ الصريح المفيد للبينونة كالطلاق على مال، وحينئذ فيكون المراد بالصريح في الجملة الثانية أعني قولهم فالبائن يلحق الصريح لا البائن هو الصريح الرجعي فقط دون الصريح البائن اھ (3/308)۔