کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں اگر ایک لڑکا اپنے سسرال جا کر مجلس میں ساس اور دو سالوں اور بڑے ہم زلف کے سامنے کہےکہ لڑکی میری نافرمان ہے اس نے مجھے پہچانا نہیں، اور میں اسکا روادار نہیں ، میری اسکی نہیں بنتی یہاں تک کہ علیحدگی اور رشتہ توڑنے تک پہنچ چکے تو بڑے ہم زلف نے پوچھا صاف بتاؤ تمہارا کیا مطلب ہے ، کیا تم لڑکی کو رکھتے ہو یا چھوڑتےہو، یا رشتہ ختم کرتے ہو، تولڑکے نے کہا ، ختم کرتا ہوں جو جرمانہ ہو دیتا ہوں ، ساس نے کہا دیکھو اس طرح مت کہو ,پشیمان ہوگئے تو ,اس نے کہا پشیمان نہیں ہونگا ، لڑکے سے پوچھا گیا تو اس نے بتایا کہ اسکی نیت چھوڑنے کی نہیں تھی، دھمکانے کے طور پر کہا ، ہاں تو کیا اس سے طلاق واقع ہوگئی ؟رہنمائی فرمائیں۔
مذکور لڑکے نے اپنے ہم زلف کے جواب میں جو الفاظ کہے " میں اس رشتہ کو ختم کرتا ہوں " ان الفاظ سے اگر واقعۃً اسکی نیت فی الحال طلاق دینے کی نہ تھی بلکہ مستقبل میں اس رشتے کے متعلق اپنی رائے کا اظہار کرنا تھا تو اس سے سائل کی بیوی پر کوئی طلاق واقع نہیں ہو گی، بلکہ حسبِ سابق میاں بیوی کی طرح زندگی بسر کر سکتے ہیں۔
كما في الدر المختار: باب الكنايات (كتابته) عند الفقهاء (ما لم يوضع له) أي الطلاق (واحتمله) وغيره (ف) الكنايات لا تطلق بها قضاء إلا بنية أو دلالة الحال) وهي حالة مذاكرة الطلاق أو الغضب (2973) –