السلام علیکم ! مفتی صاحب! امید ہے کہ آپ ایمان اور صحت کی بہترین حالت میں ہوں گے ،ان شاءاللہ ! مفتی صاحب! میں ایک سوال پوچھنا چاہتا ہوں ، میں نے تین مرتبہ جان کر ایسی حالت میں نماز پڑھائی ہے کہ غسل فرض تھا ،میں نے لوگوں کی اور گھر والوں کی شرم کی وجہ سے نماز اس حالت میں پڑھائی ہے ، یہ پندرہ سال پہلے کی بات ہے، میں اب شادی شدہ ہوں ، اب بہت زیادہ شرمندہ ہوں، اس سلسلے میں میرے لیے اب کیا حکم ہے ؟ میری راہنمائی فرمائے۔جزاکم اللہ!
سائل کا مذکور عمل انتہائی درجہ شنیع اور گناہ کبیرہ ہے، جس کی وجہ سے سائل سخت گناہ گار ہواہے ، لہٰذا اس پر لازم ہے کہ اپنے اس قبیح فعل پر بارگاہِ الٰہی میں بصدقِ دل توبہ واستغفار کرے اور آئندہ کیلیے اس طرح کے ناجائز کاموں سے بچنے کاپختہ عزم کرے ، چونکہ وہ نمازیں درست ادا نہیں ہوئیں ، اس لیے سائل پرلازم ہےکہ خود بھی ان نمازوں کااعادہ کرے اور جن لوگوں نے اس کی اقتدا میں نمازیں پڑھی ہیں ان کو اگر اطلاع دینا ممکن ہو تو انہیں نماز کے اعادہ کرنے کی اطلاع دے۔
ففی الموطأ للإمام مالك : أن عمر بن الخطاب صلى الصبح، ثم ركب إلى الجرف، ثم بعد ما طلعت الشمس رأى في ثوبه احتلاما، فقال: «لقد احتلمت، وما شعرت، ولقد سلط علي الاحتلام منذ وليت أمر الناس، ثم غسل ما رأى في ثوبه، ونضحه، ثم اغتسل ثم قام فصلى الصبح بعد ما طلعت الشمس» ، قال محمد: وبهذا نأخذ، ونرى أن من علم ذلك ممن صلى خلف عمر، فعليه أن يعيد الصلاة كما أعادها عمر، لأن الإمام إذا فسدت صلاته، فسدت صلاة من خلفه، وهو قول أبي حنيفة، رحمه الله۔اھ(ص: 101)
وفی سنن الدارقطني : عن البراء بن عازب , عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «أيما إمام سهى فصلى بالقوم وهو جنب فقد مضت صلاتهم , ثم ليغتسل هو ثم ليعد صلاته , وإن صلى بغير وضوء فمثل ذلك». كذا قال عيسى بن إبراهيم۔اھ(2/ 186)
وفی الدر المختار: (وإذا ظهر حدث إمامه) وكذا كل مفسد في رأي مقتد (بطلت فيلزم إعادتها) لتضمنها صلاة المؤتم صحة وفسادا (كما يلزم الإمام إخبار القوم إذا أمهم وهو محدث أو جنب) أو فاقد شرطا أو ركن. وهل عليهم إعادتها إن عدلا، نعم وإلا ندبت،(إلى قوله) (بالقدر الممكن) بلسانه أو (بكتاب أو رسول على الأصح) لو معينين وإلا لا يلزمه ۔اھ(1/ 591)
وفي الفتاوى التاتارخانيه : إذا وقعت صلاة الإمام فاسدة ينبغي أن يخبر الناس صلوا خلفه، ليعيدوا صلاتھم فإن غابوا يكتب إليھم أو يرسل إليھم من يأمرھم بذلك ليخرج ھو من العھدة، إلا إذا كان فى فصل مجتھد فيه ، جاز أن يأخذ فى تلك الصلاة بقول من يقول بالجواز ۔اھ(2/253)
وفی تبیین الحقائق : وإن ظھر أن إمامه محدث أعاد )۔اھ(1/362)والله أعلم بالصواب!