میرا نام فیضان ہے مجھے یہ معلوم کرنا تھا کہ اگر کوئی شخص اپنے سالے کو فون کال کر کے بولے کہ "اپنی بہن کو آکر لے جاؤ میں نے اس کو فارغ کر دیا ہے"، کیا ایسا کہنے سے طلاق ہو جاتی ہے ؟ یا پھر سامنے سا لا ،بیٹھا ہو اور کہے کہ مرد بنو اور شوہر غصے میں بولے کہ "ٹھیک ہے پھر میں اس کو طلاق دے دو ں تمھاری بہن کو"، کیا ایسا کہنے سے طلاق ہو جاتی ہے ؟
واضح ہو کہ " فارغ ہو یا فارغ کر دیا کے الفاظ عند القرینہ طلاق بائن کے لیے استعمال ہوتے ہیں، چنانچہ صورت مسئولہ میں مذکور الفاظ " اپنی بہن کو آکر لے جاؤ میں نے اس کو فارغ کر دیا ہے " کہنے سے شخص مذکور کی بیوی پر ایک طلاق بائن واقع ہو کر نکاح ختم ہو چکا ہے اور تجدید نکاح کے بغیر دوبارہ ایک ساتھ رہنا شر عا جائز نہیں ، جبکہ ایام عدت کے بعد عورت دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے، البتہ باہمی رضامندی سے اگر دوران عدت یا عدت گزرنے کے بعد بھی دونوں ساتھ رہنا چاہیں تو شرعی گواہوں کی موجودگی میں نئے مہر کے تقرر کیساتھ ایجاب و قبول کرنے کے بعد ساتھ رہ سکتے ہیں، لیکن اس صورت میں آئندہ کیلئے شوہر کو فقط دو طلاقوں کا حق حاصل ہو گا،جبکہ سالہ کے مذکور الفاظ " مر د بنو کے جواب میں "یہ الفاظ میں اسکو طلاق دے دو ں تمہاری بہن کو " کہنے سے اسکی بیوی پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی، البتہ آئندہ کیلئے طلاق کے معاملے میں احتیاط سے کام لینا چاہیئے۔
كما في الهندية :وما يصلح جوابا وشتماخلية، برية ، بتلة بائن حرام (إلى قوله) وفى حالة مذاكرة الطلاق يقع الطلاق في سائر الاقسام الخ (374/1) ۔
وفيها ايضا:واما حكمه فوقوع الفرقة بانقضاء العدة في الرجعي وبدونه في البائن اھ (348/1)۔
وفي تنقيح الفتاوى الحامدية : صيغة المضارع لا يقع بها الطلاق الا اذا غلب في الحال كما صرح به الكمال ابن الهمام اھ (38/1)والله اعلم بالصواب