میرے شوہر نے مجھے چھوڑ دیا ہے اور جب میرے بابا فیصلے کےلیے گئے تو بولے:" میں طلاق دے چکا ہوں" کیا یہ طلاق ہوگئی ،میں وہاں موجود نہیں تھی ؟
واضح ہو کہ وقوع طلاق کے لیے بیوی کا موجود ہونا یا اس کا الفاظِ عورت کا طلاق سننا شرعا ضروری نہیں، بلکہ اسکے بغیر بھی شوہر کے طلاق دینے سے طلاق واقع ہو جاتی ہے ، لہذا سوال میں ذکر کروہ بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو، اسمیں کسی بھی قسم کی غلط بیانی سے کام نہ لیا گیا ہو، تو سائلہ کےشوہر نے سائلہ کو جتنی طلاقیں دی ہیں وہ واقع ہو چکی ہیں۔
کمافی الدرالمختار: (وإذا أضاف الطلاق إليها) كأنت طالق (وقع) (قوله كأنت طالق) وكذا لو أتى بالضمير الغائب أو اسم الإشارة العائد إليها أو باسمها العلمي ونحو ذلك اھ(3 /256)
وفی البحرالرائق: وذكر اسمها أو إضافتها إليه كخطابه كما بينا فلو قال طالق فقيل له من عنيت فقال امرأتي طلقت امرأته اھ(3 /256)