مفتی صاحب! السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ !مہربانی کرکے ایک فتویٰ تحریر کریں ایسے بچوں کے بارے میں جو نابالغ ہو اور وہ روزمرّہ کی فرض نمازوں میں امامت کررہے ہوں، امام کی غیر موجودگی میں ہمارے پڑوس کی ایک مسجد میں،اور وہ بچے شعبہ حفظ کے طالب علم ہوتے ہیں یا امام صاحب کے بچے ہوتے ہیں جو عموماً امامت کراتے ہیں اور ان کی عمریں تقریبا 8سال سے لے کر 12 سال تک ہوتی ہیں ؟ مفتی صاحبان اس بارے میں کیا کہتے ہیں کہ کیا یہ صحیح ہے اور ہماری نماز ان کے پیچھے صحیح ہے یا نہیں یا ہم ان کے پیچھے نماز نہ پڑھیں؟یا اب ہم اپنے نمازوں کا اعادہ کریں یا نہ کریں ؟ مہربانی کرکے جواب دے اور میری اس مشکل کو ختم کردیں جو میرے ذہن میں ہے قرآن و سنت کی روشنی میں؟
واضح ہو کہ امام کی غیر موجودگی میں نا با لغ بچوں کی اقتداء میں نماز پڑھنا شرعا درست نہیں ، بلکہ ناجائز اور گناہ ہے اور اس طرح نماز بھی درست نہ ہوگی ، لہٰذا آئندہ نابا لغ بچوں کو نماز کے لیے آگے کرنے سے احتراز لازم ہے ، جبکہ ان بچوں کی اقتداءمیں اب تک جتنی نمازیں پڑھی گئی ہیں ، وہ بھی درست ادا نہیں ہوئی ہیں ، لہٰذا ان تمام نمازوں کا اعادہ لازم ہے۔
ففی الفتاوی الخانية:ولا تجوز ٰامامةالصبی فی صلاة الفرض،وقال الشافعی:تجوز،واما اقتداءالبالغ بالصبی فی التطوع ،فقد جوزہ محمد بن مقاتل للحاجة الیه،خصوصا فی لیالی رمضان فی التراویح ،وبه قال مشایخ بلخ ، والاصح عندنا انه لا یجوز، لان نفل الصبی دون نفل البالغ،حتی لا یلزمه القضاءبالافسادـ اھ(2/251)
وفی الھداية:ولایجوزللرجال ان یقتدو بامراةاو صبی،امالمراة فلقوله ﷺاخروھن من حیث اخرھن اللہ فلا یجوز تقدیمھا،واما الصبی فلانه متنفل فلا یجوز اقتداءالمفترض به-اھ (1/123)
وفی ھامش الھداية:وعن ابن عباس لا یؤم الغلام حتی یحتلم، وعن ابن مسعود لایؤم الغلام الذی لا تجب علیه الحدود،رواھما الاثرم فی سننه ـاھ (1/124) واللہ أعلم بالصواب!