السلام علیکم! مفتی صاحب! معلوم یہ کرنا ہے کہ جو امام سنتیں اور وتر کا تارک ہو کثرت کے ساتھ، ایسے امام کے پیچھے نماز پڑھنے کا کیا حکم ہے؟
صورتِ مسئولہ میں اگر سائل کی مذکور بات واقعۃً درست اور تحقیق کی بنیاد پر ہو، تو ایسے شخص کی اقتداء میں نماز پڑھنا مکروہ ہے، لیکن اگر سائل کو اس کی تحقیق نہ ہو تو بلاتحقیق کسی شخص سے بدظن ہو کر اس کے پیچھے نماز نہ پڑھنا درست نہیں، جس سے سائل کو احتراز چاہیے۔
ففی اعلاء السنن: عن أبی امامة رضی اللہ عنه مرفوعاً أن سرکم أن تقبل صلوتکم فلیؤمکم خیارکم اھ (۴/ ۲۰۰)
وفی حاشية ابن عابدين: وعند الحنفية ليست العدالة شرطا للصحة فيصح تقليد الفاسق الإمامة مع الكراهة اھ(1/ 549)
وفی الدر المختار: وفي النهر عن المحيط: صلى خلف فاسق أو مبتدع نال فضل الجماعة اھ(1/ 562)