السلام علیکم ! جناب اکثر دیکھنے میں آیا ہے نمازی سجدہ سجود اور قیام ٹھیک سے نہیں کر رہے ہوتے جس سے نماز کادوبارہ پڑھنا واجب ہوتا ہے اور اکثر امام صاحب کو یہ بات معلوم ہوتی ہے، اگر امام صاحب نمازی کی اصلاح نہ کریں تو امام صاحب گنہگار نہیں ہوگا؟
اگر کوئی شخص نماز کے ارکان (سجدہ،رکوع وغیرہ) اطمینان سے ادا نہیں کرتا تو اس کی وجہ سے امام صاحب کو تو کوئی گناہ نہ ہوگا، بلکہ اسے اَز خود سنت کے مطابق نماز سیکھنے اور ادا کرنے کا اہتمام کرنا چاہیے، تاہم اگر امام صاحب لوگوں کی اصلاح کے لیے انفرادی یا اجتماعی طور پر نماز کا طریقہ کارسمجھا دے تو اس پر امید ہے کہ وہ عند اللہ ماجور ہونگے۔
كما في القرآن الكريم : وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى اھ (سورة فاطر (18)۔
وفي سنن ابن ماجة : عن انس بن مالك قال رسول اللہﷺ: طلب علم فريضة على كل مسلم اھ (ص/ (20)۔