میرے شوہر نے 2 سال قبل تینوں طلاقیں بھیج دیں جبکہ اسکو اپنے والد نے مجبورکیا تھا یہاں تک کہ اس نے کاغذات نہیں پڑھے اور نہ طلاق کا لفظ کہا، اور اب کہنے لگا کہ جبری طلاق اسلام میں بالکل جائز نہیں ہے، برائے مہربانی فتوی دیں کہ آیا طلاق واقع ہوچکی ہے یا نہیں؟
سائلہ نے اس کی وضاحت نہیں لکھی ، کہ اس کے شوہر نے مذکور طلاق نامہ کو پڑھ کر یا یہ سمجھ کر کہ یہ طلاق نامہ ہے دستخط کیے تھے یا بلا سمجھے، اس طرح جبرو اکراہ کی کیا صورت تھی، تاہم اگر سائلہ کے شوہر دستخط کرتے ہوئے یہ سمجھتے تھے کہ یہ طلاق نامہ ہے اور اکراہ اس طرح نہ تھا کہ اگر وہ دستخط نہ کرتے تو اسکی جان یا کسی عضو کو نقصان پہنچتا اور طلاق نامہ بھی تین طلاقو ں پرمشتمل تھا ،تو ایسی صورت میں طلاق نامہ پر دستخط کرنے سے سائلہ پر تینوں طلاقیں واقع ہو کر حرمتِ مغلظہ ہو چکی ہے ، اب نہ رجوع ہو سکتا ہے، اور نہ ہی حلالۂ شرعیہ کے بغیر باہم عقدِ نکاح ہو سکتا ہے، جبکہ عورت ایّامِ عدت گزارنے کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے۔
كما فی الدر المختار : وهو نوعان تام وهو الملجئ بتلف نفس أو عضو أو ضرب مبرح و إلا فناقص وهو غير الملجئ. (وشرطه) أربعة أمور: (قدرة المكره على إيقاع ما هدد به سلطانا أو لصا) أو نحوه اھ (1286)
وفی الدرالمختار: وفي البحر أن المراد الإكراه على التلفظ بالطلاق ، فلو أكره على أن يكتب طلاق امرأته فكتب لا تطلق لأن الكتابة أقيمت مقام العبارة باعتبار الحاجة ولا حاجة هنا اھ(236/3)
وفیه أیضاً: وإن كانت مرسومة يقع الطلاق نوى أو لم ينو ثم المرسومة لا تخلو إما أن أرسل الطلاق بأن كتب: أما بعد فأنت طالق، فكما كتب هذا يقع الطلاق وتلزمها العدة من وقت الكتابة. اھ (246/3)